اور ؔ ستیارتھ پرکاش میں لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام رُدّر ہے یعنی بُرے کام کرنے والوں کو رُلاتا ہے۔ ایسا ہی لکھا ہے کہ پرمیشر کا نام اریما بھی ہے۔ یعنی جزا سزا دینے والا۔ اور ایسا ہی پرمیشر کا نام انّ بھی لکھا ہے یعنی تمام دُنیا کوکھانے والا۔ پس ان ناموں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرمیشر میں ایک غضبی صفت ضرور ہے جس کے تقاضا سے وہ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے اور جس کے تقاضا سے وہ قصورواروں کو کتا بِلّابناتا ہے اگر اُس میں اس قسم کی صفت موجود
بقیہ حاشیہ۔ کہ پرمیشر میں غضب نہیں اور وہ جوگناہگاروں کو سزا دیتا ہے اس کی بنا کسی ذاتی تقاضا پر نہیں اور اس میں یہ صفت موجود ہی نہیں کہ اس کی ذات تقاضا فرماوے کہ نافرمان کو سزا دے گویا نعوذ باللہ صرف مجانین اور دیوانوں کی طرح اس سے یہ حرکت صادر ہو تی ہے ۔ کہ ؔ گنہ گاروں کو سزا دیتا ہے ورنہ دراصل اُس کی ذات میں کوئی ایسی صفت نہیں جو تقاضا فرماوے کہ نافرمان کو سزا دی جاوے ۔ یہ ہے آریہ لوگوں کی وید ودّیا جو اندھو ں کی طرح باتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس صفت کے بیان کرنے میں محض قرآن شریف مخصوص نہیں بلکہ ویدوں کی صد ہا شرتیاں گواہی دے رہی ہیں کہ پر میشر میں ضرور ایک صفت غضبی ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ ویدوں میں پر میشر کا نام تک نہیں ہے اور تمام ویدوں میں بجائے پرمیشر کے اگنی اور وایو اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ مخلوقات کی اُستت ومہما و تعریف موجود ہے اور انہیں چیزوں کی نسبت غضب کی صفات بیان کی گئی ہیں۔پس اگر آریہ صاحبان یہ کہیں کہ ہم ان تمام چیزوں کو جن کی پرستش ویدوں میں موجود ہے (یعنی اگنی وغیرہ کو) پرمیشر نہیں مانتے لہٰذا ان چیزوں کا غضب اور کینہ وغیرہ جو وید میں لکھا ہے یہ قول ہم پر حجت نہیں یہ دکھلاؤ کہ کہاں وید میں لکھا ہے کہ پرمیشر بھی غضب کرتا ہے ؟
پس اے ہموطن پیارو !جب کہ تمام ویدوں میں پرمیشر کا نام تک نہیں تو ہم ویدوں میں سے پرمیشرکا لفظ کہاں سے نکالیں ۔ تمہارا پر میشر وید کی رو سے جو کچھ ہے وہ یہی چیزیں ہیں اور کوئی پرمیشر نہیں۔ ہاں اس سے ہمیں بھی تو تعجب ہے کہ ویدوں میں ان چیزوں کے صفات بیان کرنے میں عجیب تناقض سے کام لیا ہے ۔ اگر ذرّہ غور سے دیکھو تو ظاہر ہوگا کہ تمام بیان وید کا ایک مخبط الحواس انسان کی طرح ہے ۔ شرتیوں کا مضمون ایسا بے سروپا اور مہمل ہے کہ فقرہ فقرہ