ماننےؔ والے اور پڑھنے پڑھانے والے پنڈت کیوں مخلوق پرستی میں گرفتار ہوجاتے اور کیوں بڑے بڑے پنڈت جن کو وید کنٹھ تھے اِس بلا میں پھنس جاتے ؟ اور کیوں ہندو لوگ بُت شکن بادشاہوں کے جانی دشمن بن جاتے اور کیوں وہ لڑائیاں ہوتیں جو سلطان محمود غزنوی کے مقابل سومنات کے بُت کی حمایت کے لئے ہندو راجوں نے کیں اور باہمی لڑائیوں سے خون کی ندیاں بہ گئیں؟ پس یہ تمام گمراہ فرقے اور بُت پرستی کے حامی درحقیقت وید سے ہی پیدا ہوئے ہیں۔
پھر اُسی مضمون میں جو جلسہ میں پڑھا گیا مضمون کے پڑھنے والے نے یہ بیان کیا کہ پرمیشر غضب اور کینہ اور بغض اورحسد سے الگ ہے۔ شاید اِس تقریر سے اُس کا یہ مطلب ہے کہ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی نسبت غضب کا لفظ آیا ہے تو گویا وہ اپنے اس مضمون میں قرآن شریف کے مقابل پر وید کو اس تعلیم سے مبّرا کرتا ہے کہ خدا غضب بھی کیا کرتا ہے مگر یہ اُس کی سراسر غلطی ہے۔ یاد رہے کہ قرآن شریف میں کسی بیجا اور ظالمانہ غضب کی طرف خدا تعالیٰ کو منسوب نہیں کیا گیا بلکہ مطلب صرف اس قدر ہے کہ بوجہ نہایت پاکیزگی اور تقدس کے خدا تعالیٰ میں ہمرنگ غضب ایک صفت ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ نافرمان کو جو سرکشی سے باز نہیں آتا اس کی سزادی جائے اور ایک دوسری صفت ہمرنگ محبت ہے اوروہ تقاضا کرتی ہے کہ فرمانبردار کو اس کی اطاعت کی جزادی جائے*۔ پس سمجھانے کے لئے پہلی صفت کا نام غضب اوردوسری صفت کانام محبت رکھا گیا ہے لیکن نہ وہ غضب انسانی غضب کی طرح ہے اور نہ وہ محبت
* تیسری صفت خدا تعالیٰ میں ایک رحم بھی ہے اور وہ صفت تقاضا کرتی ہے کہ رجوع کرنے والوں کا گناہ بخش دیا جائے ۔ پس یہ تین صفت ہیں غضب۱ ۔ محبت۲ ۔ر۳حم ۔جو خدا تعالیٰ کی ذات میں موجود ہیں مگر نہ انسانی صفات کی طرح بلکہ اس طرح جو خدا کی شان کے لائق ہے ۔ من