ہے ۔ میں تو اس جالی کو غار کے منہ پر اس زمانہ سے دیکھ رہا ہوں جبکہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔ اس بات کو سن کر سب لوگ منتشر ہوگئے اور غارکا خیال چھوڑدیا ۔
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ طور پر مدینہ میں پہنچے اورؔ مدینہ کے اکثر لوگوں نے آپ کو قبول کرلیا۔ اس پر مکہ والوں کا غضب بھڑکا اور افسوس کیاکہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ اور پھر کیا تھادن رات انہیں منصوبوں میں لگے کہ کس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کردیں۔ اور کچھ تھوڑا گر وہ مکّہ والوں کاکہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تھا وہ بھی مکّہ سے ہجرت کرکے مختلف ممالک کی طرف چلے گئے۔ بعض نے حبشہ کے بادشاہ کی پناہ لے لی تھی۔ اور بعض مکّہ میں ہی رہے۔ کیوں کہ وہ سفر کرنے کے لئے زادِ راہ نہیں رکھتے تھے اوروہ بہت دُکھ دیئے گئے۔ قرآن شریف میں اُن کا ذکر ہے کہ کیوں کر وہ دِن رات فریاد کرتے تھے۔
اور جب کفار قریش کا حدسے زیادہ ظلم بڑھ گیا۔ اور انہوں نے غریب عورتوں اور یتیم بچوں کو قتل کرنا شروع کیا۔اوربعض عورتوں کو ایسی بیدردی سے مارا کہ اُن کی دونوں ٹانگیں دو رسوں سے باندھ کر دو اُونٹوں کے ساتھ وہ رسے خوب جکڑ دیئے اور پھر اُن اُونٹوں کو دو مختلف جہات میں دوڑایا اور اِس طرح پر وہ عورتیں دوٹکڑے ہوکر مرگئیں۔
جب بے رحم کافروں کا ظلم اِس حد تک پہنچ گیا۔ خدا نے جوآخر اپنے بندوں پر رحم کرتا ہے۔ اپنے رسول پر اپنی وحی نازل کی کہ مظلوموں کی فریاد میرے تک پہنچ ؔ گئی۔ آج میں اجازت دیتا ہوں کہ تم بھی اُن کامقابلہ کرو اور یاد رکھو کہ جو لوگ بے گناہ لوگوں پر تلوار اُٹھاتے ہیں وہ تلوار سے ہی ہلاک کئے جائیں گے۔