مگر تم کوئی زیادتی مت کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
یہ ہے حقیقت اسلام کے جہاد کی جس کو نہایت ظلم سے بُرے پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔ بیشک خد ا حلیم ہے۔ مگر جب کسی قوم کی شرارت حد سے گذر جاتی ہے۔ تو وہ ظالم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ اور آپ اُن کے لئے تباہی کے سامان پیدا کر دیتا ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ہمارے مخالفوں نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خدا توقرآن شریف میں فرماتا ہے۔3 ۱ یعنی دین اسلام میں جبر نہیں۔ تو پھر کس نے جبرکاحکم دیا۔ اور جبر کے کونسے سامان تھے۔ اور کیا وہ لوگ جو جبر سے مسلمان کئے جاتے ہیں اُن کا یہی صدق اور یہی ایمان ہوتا ہے کہ بغیر کسی تنخواہ پانے کے باوجود دو تین سو آدمی ہونے کے ہزاروں آدمیوں کا مقابلہ کریں۔ اور جب ہزار تک پہنچ جائیں تو کئی لاکھ دشمن کو شکست دے دیں۔ اور دین کو دشمن کے حملہ سے بچانے کے لئے بھیڑوں بکریوں کی طرح سرکٹا دیں۔اور اسلام کی سچائی پر اپنے خون سے مہریں کردیں۔ اور ؔ خدا کی توحید کے
پھیلانے کے لئے ایسے عاشق ہوں کہ درویشانہ طور پر سختی اُٹھاکر افریقہ کے ریگستان تک پہنچیں اور اس ملک میں اسلام کو پھیلادیں۔ اور پھر ہریک قسم کی صعوبت اُٹھاکر چین تک پہنچیں نہ جنگ کے طور پر بلکہ محض درویشانہ طور پر اور اس ملک میں پہنچ کر دعوتِ اسلام کریں جس کانتیجہ یہ ہو کہ اُن کے بابرکت وعظ سے کئی کروڑ مسلمان اس زمین میں پیدا ہوجائیں۔ اور پھر ٹاٹ پوش درویشوں کے رنگ میں ہندوستان میں آئیں اور بہت سے حصہ آریہ ورت کو اسلام سے مشرف کردیں۔ اور یورپ کی حدود تک لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کی آواز پہنچا ویں۔ تم ایماناً کہو کہ کیا یہ کام اُن لوگوں کا ہے جو جبراً مسلمان کئے جاتے ہیں جن کادل کافر اور زبان مومن ہوتی ہے؟