پوشیدہ طور پر عبادت کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ آپ پر ظاہر ہوا اور آپ کو حکم ہوا کہ دنیا نے خدا کی راہ کو چھوڑ دیا ہے۔ اور زمین گنہ سے آلودہ ہو گئی ہے ۔ اس لئے میں تجھے اپنا رسول کرکے بھیجتا ہوں ۔ اب تُو اور لوگوں کو متنبہ کر کہ وہ عذاب سے پہلے خدا کی طرف رجوع کریں ۔ اس حکم کے سننے سے آپ ڈرے کہ میں ایک اُمّی یعنی ناخواندہ آدمی ہوں اور عرض کی کہ میں پڑھنانہیں جانتا ۔ تب خدا نے آپ کے سینہ میں تمام روحانی علوم بھردیئے اور آپ کے دل کو روشن کیا تھا ۔ آپ کی قوت قدسیہ کی تاثیر سے غریب اور عاجز لوگ آپ کے حلقہ اطاعت میں آنے شروع ہوگئے ۔ اور جو بڑے بڑے آدمی تھے انہوں سے دشمنی پر کمر باندھ لی ۔ یہاں تک کے آخر کار آپ کو قتل کرنا چاہا ۔ اور کئی مرداور کئی عورتیں بڑے عذاب کے ساتھ قتلکرؔ دیئے گئے۔ اور آخری حملہ یہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے آپ کے گھر کا محاصرہ کرلیا۔ مگر جس کو خدا بچاوے اس کو کون مارے ۔ خدا نے آپ کو اپنی وحی سے اطلاع دی کہ آپ اس شہر سے نکل جاؤ ۔ اور میں ہر قدم میں تمہارے ساتھ ہوں گا ۔ پس آپ شہر مکہ سے ابو بکرکو ساتھ لے کر نکل آئے اور تین رات تک غار ثور میں چھپے رہے ۔ دشمنوں نے تعاقب کیا اور ایک سراغ رسان کو لے کر غار تک پہنچے اس شخص نے غار تک قدم کا نشان پہنچا دیا اور کہا کہ اس غار میں تلاش کرو اس کے آگے قدم نہیں ۔ اور اگر اس کے آگے گیا ہے تو پھر آسمان پر چڑھ گیا ہوگا مگر خدا کی قدرت کے عجائبات کی کون حد بست کرسکتا ہے ۔ خدا نے ایک ہی رات میں یہ قدرت نمائی کی کہ عنکبوت نے اپنی جالی سے غار کا تمام منہ بند کردیا اور ایک کبوتری نے غارکے منہ پر گھونسلا بنا کر انڈے دیدیئے اور جب سراغ رساں نے لوگوں کو غار کے اندر جانے کی ترغیب دی تو ایک بڈھا آدمی بولا کہ یہ سراغ ر ساں تو پاگل ہوگیا