مان لیا اورہر ایک قوم کے نبی خواہ ہند میں گذرے ہیں اور خواہ فارس میں کسی کو مکار اور کذّاب نہیں کہا بلکہ صاف طور پر کہہ دیا کہ ہر ایک قوم اور بستی میں نبی گذرے ہیں اور تمام قوموں کے لئے صلح کی بنیاد ڈالی ۔ مگر افسوس کہ اس صلح کے نبی کو ہر یک قوم گالی دیتی ہے اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے ۔ اے ہموطن پیارو! ! میں نے یہ بیان آپ کی خدمت میں اس لئے نہیں کیاکہ میں آپ کو دکھ دوں یا آپ کی دل شکنی کروں بلکہ میں نہایت نیک نیتی سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن قوموں نے یہ عادت اختیار کر رکھی ہے اور یہ ناجائز طریق اپنے مذہب میں اختیار کرلیا ہے کہ دوسری قوموں کے نبیوں کو بد گوئی اور دشنام دہی کے ساتھ یاد کریں وہ نہ صرف بیجا مداخلت سے جس کے ساتھ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں خدا کے گنہگار ہیں ۔ بلکہ وہ اس گنہ کے بھی مرتکب ہیں کہ بنی نوع میں نفاق اور دشمنی کابیج بوتے ہیں ۔ آپ دل تھام کر اس بات کا مجھے جواب دیں کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دے یا اس کی ماں پر کوئی تہمت لگاوے تو کیا وہ اپنے باپ کی عزت پر آپ حملہ نہیں کرتا۔اور اگر وہ شخص جس کو ایسی گالی دی گئی ہے جواب میں اسی طرح گالیؔ سنادے تو کیا یہ کہنا بے محل ہوگا کہ بالمقابل گالی دیئے جانے کا دراصل وہی شخص موجب ہے جس نے گالی دینے میں سبقت کی اور اس صورت میں وہ اپنے باپ اور ماں کی عزت کا خود دشمن ہوگا ۔ خدا تعالےٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریق ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ33 ۱؂ (سورۃ الانعام الجزو نمبر ۷)یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے ۔ کیوں کہ وہ