دنیاکے تمام مقدس نبیوں اور رسولوں کواپنے اپنے وقت میں خدا کی طرف سے نبی اور مصلح ماننا اور اُن میں تفرقہ نہ ڈالنا۔ اور ہریک نوع انسان سے خدمت کے ساتھ پیش آنا۔ ہمارے مذہب کا خلاصہ یہی ہے۔ مگر جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہوکر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجناب پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بدزبانی سے باز نہیں آتے ہیں۔ ان سے ہم کیونکر صلح کریں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کرسکتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کرسکتے جو ہمارے پیارے نبی پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے۔ میں اس وقت کسی خاص قوم کو بے وجہ ملامت کرنا نہیں چاہتا۔ اور نہ کسی کا دل دُکھانا چاہتا ہوں بلکہ نہایت افسوس سے آہ کھینچ کر مجھے یہ کہنا پڑا ہے کہ اِسلام وہ پاک اور صلح کار مذہب تھا جس نے کسی قوم کے پیشوا پر حملہ نہیں کیا۔ اور قرآن وہ قابل تعظیم کتاب ہے جس نے قوموں میں صلح کی بنیاد ڈالی اور ہرایک قوم کے نبی کو مان لیا۔ اور تمام دُنیا میں یہ فخر خاص قرآن شریف کوؔ حاصل ہے۔ جس نے دُنیا کی نسبت ہمیں یہ تعلیم دی کہ 3 ۱؂ یعنی تم اے مسلمانو! یہ کہو کہ ہم دُنیا کے تمام نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ان میں تفرقہ نہیں ڈالتے کہ بعض کو مانیں اور بعض کو رد کردیں۔ اگرایسی صلح کار کوئی اور الہامی کتاب ہے تو اس کا نام لو قرآن شریف نے خدا کی عامہ رحمت کو کسی خاندان کے ساتھ مخصوص نہیں کیا۔ اسرائیلی خاندان کے جتنے نبی تھے کیا یعقوب اور کیا اسحٰق اور کیا موسیٰ اور کیا داؤد اور کیا عیسیٰ سب کی نبوت کو