پنڈؔ توں نے یہی سمجھ لیا تھا کہ آگ اور جل اور چاند اور سورج وغیرہ سب خدا ہی ہیں۔ اِسی وجہ سے یہ تمام فرقے آریہ ورت میں پیدا ہوگئے۔ اگر وید جل کی پوجا کی ہدایت نہ کرتا تو گنگا مائی کے پوجنے والے کیوں پیدا ہوجاتے۔ ہر دو ار وغیرہ مقامات کے بڑے بڑے میلوں پر جاکر دیکھنا چاہیئے کہ کس صدق اور ارادت سے کئی لاکھ ہندو گنگا کی پوجا کرتے ہیں اور گنگا کے لاکھوں برہمنوں کا اُن کے چڑھاووں پر گذارہ ہے اور گنگا سے انواع اقسام کی مرادیں مانگی جاتی ہیں اور یہ سب لوگ وید کے پَیرو کہلاتے ہیں اگر وہ وید کے ماننے والے نہ ہوتے تو ہندو مذہب میں شمار نہ کئے جاتے۔ بلاشبہ اب بھی ایک بڑا حصہ ہندوؤں کا گنگا کو پرمیشر کرکے مانتا ہے یہاں تک کہ یہ قدیم سے رسم ہے کہ پہلا بچہ اپنا گنگا مائی کی نذ ر کیا جاتا تھا جس کو جل پروا کہتے ہیں اور اس طرح پر نہایت بے رحمی سے گنگا میں ڈال کر اُس کو ہلاک کر دیتے تھے مگر گورنمنٹ انگریزی نے اپنے خاص حکم سے اِس بد رسم کو دُور کردیا اور لاکھوں جانوں کو ہلاکت سے بچایا۔
اب ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ آریہ ورت کے ہندو جو درحقیقت ایک ہی قوم ہے کیوں عناصر اور اجرام پرستی میں گرفتار ہوگئے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ویدوں میں اُنہوں نے ایسا ہی لکھا پایا۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ درحقیقت یہی ویدوں کی تعلیم ہے بلکہ ہر ایک جگہ جو ہم اس رسالہ میں ایسا ذکر کریں گے تو اُس سے مراد یہی ہے کہ غلطی سے یہی تعلیم ویدوں کی سمجھی گئی ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس پر حاشیے چڑھائے گئے یہاں تک کہ مخلوق پرستی اصل مذہب آریہ ورت کا قرار دیا گیا اور یہ فتنہ جو آریوں میں مخلوق پرستی کا پیدا ہوا دراصل تمام الزام اس کا وید کی تعلیم پر ہے کیونکہ جب کہ رگوید اور دوسرے ویدوں میں صریح صریح اورکھلے طور پر آتش پرستی اور آب پرستی اور آفتاب پرستی اور ماہتاب پرستی وغیرہ مخلوق پرستیوں کا ذکر ہے تو پھر جن لوگوں نے یہی تعلیم وید کی سمجھ لی اُن کا کیا قصور ہے؟ اگر ویدوں میں صاف اور صریح لفظوں میں مخلوق پرستی کی ممانعت ہوتی تو ویدوں کے