مگر وہ دِلی صفائی جس کو در حقیقت صفائی کہنا چاہئے۔ صرف اسی حالت میں پیدا ہوگی جب کہ آپ لوگ وید اور وید کے رشیوں کو سچے دل سے خدا کی طرف سے قبول کرلوگے۔ اور ایسا ہی ہندو لوگ بھی اپنے بخل کو دُور کرکے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرلیں گے یاد رکھو اور خوب یاد رکھو کہ تم میں اور ہندو صاحبوں میں سچی صلح کرانے والا صرف یہی ایک اصول اور یہی ایک ایسا پانی ہے جو کدورتوں کو دھودے گا اور اگر وہ دن آگئے ہیں کہ یہ دونوں بچھڑی ہوئی قومیں باہم مل جائیں۔ تو خدا اُن کے دِلوں کو بھی اس بات کے لئے کھول دے گا جس کے لئے ہمارا دل کھول دِیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ضرور ہوگاکہ ہندو صاحبان کے ساتھ سچی ہمدردی کے ساتھ پیش آؤ۔ اور سلوک اور مروّت اپنی عادت کرو۔ اور ایسے کاموں سے اپنے تئیں باز رکھو جن سے اُن کو دُکھ پہنچے۔ مگر وہ کام ہمارے مذہب میں نہ واجبات سے ہوں اور نہ فرائض مذہب سے۔ پس اگر ہندو صاحبان اپنے صدق دل سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا نبی مان لیں۔ اور ان پر ایمان لاویں تو یہ تفرقہ جو گائے کی وجہ سے ہے۔ اس کو بھی درمیان سے اُٹھا دیا جائے۔ جس چیز کو ہمؔ حلال جانتے ہیں۔ ہم پر واجب نہیں کہ ضرور اس کو استعمال بھی کریں۔ بہتیری ایسی چیزیں ہیں کہ ہم حلال تو جانتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے استعمال نہیں کیں۔ ان سے سلوک اور احسان کے ساتھ پیش آنا ہمارے دین کی وصایا میں سے ایک وصیت ہے۔ خدا کو واحد لاشریک جاننا۔ پس ایک ضروری اور مفید کام کے لئے غیر ضروری کو ترک کرنا خدا کی شریعت کے مخالف نہیں۔ حلال جاننا اور چیز ہے اور استعمال کرنا اور چیز۔ دین یہ ہے کہ خدا کی منہیات سے پرہیز کرنا اور اس کی رضامندی کی راہوں کی طرف دوڑنا اور اس کی تمام مخلوق سے نیکی اور بھلائی کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا اور