سدّ راہ ہوئے جس سے رنجش بڑھ گئی۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ ان وجوہ سے بھی اصل عداوت پر حاشیے چڑھ گئے ہیں۔ مگر میں ہرگز تسلیم نہیں کروں گا کہ اصل وجوہ یہی ہیں۔ اور مجھے ان صاحبوں سے اتفاق رائے نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ ہندو مسلمانوں کی باہمی عداوت اور نفاق کا باعث مذہبی تنازعات نہیں ہیں اصل تنازعات پولٹیکل ہیں۔ یہ بات ہریک شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ مسلمان اس بات سے کیوں ڈرتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق کے مطالبات میں ہندوؤں کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ اور کیوں آج تک اُن کی کانگریس کی شمولیت سے انکار کرتے رہے ہیں۔ اور کیوں آخر کار ہندوؤں کی درستی رائے محسوس کرکے اُن کے قدم پر قدم رکھا۔ مگر الگ ہوکر اور اُن کے مقابل پر ایک مسلم انجمن قائم کردی مگر اُن کی شراکت کو قبول نہ کیا۔ صاحبو! اِس کا باعث دراصل مذہب ہی ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں اگر آج وہی ہندو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّٰہ محمّد رسول اللّٰہ پڑھ کر مُسلمانوں سے آکر بغلگیر ہوجائیں یامسلمان ہی ہندو بن کر اگنی وایو وغیرہ کی پرستش وید کے حکم کے موافق شروع کردیں اور اسلام کو الوداع کہہ دیں تو جن تنازعات کا نام اب پولٹیکل رکھتے ہیں وہ ایک دم میں ایسے معدوم ہو جائیں کہ گویا کبھی نہ تھے۔ پسؔ اس سے ظاہر ہے کہ تمام بُغضوں اور کینوں کی جڑھ دراصل اختلاف مذہب ہے۔ یہی اختلافِ مذہب قدیم سے جب انتہا تک پہنچتا رہا ہے تو خُون کی ندیاں بہاتا رہا ہے۔ اے مسلمانوں جب کہ ہندو صاحبان تمہیں بوجہ اختلاف مذہب کے ایک غیر قوم جانتے ہیں اور تم بھی اِس وجہ سے اُن کوایک غیر قوم خیال کرتے ہو۔ پس جب تک اِس سبب کا ازالہ نہ ہوگا کیوں کر تم میں اوراُن میں ایک سچی صفائی پیدا ہوسکتی ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ مُنافقانہ طور پر باہم چند روز کے لئے میل جول بھی ہوجائے۔