مرتکب ہوں گے۔ اور چونکہ ایسی حرکت حیا اور شرافت کے برخلاف ہے۔اس لئے میں اُمید نہیں رکھتا کہ اس معاہدہ کے بعد وہ لوگ اپنی زبان کھولیں۔ لیکن یہ ضروری ہوگا کہ معاہدہ کی تحریرکو پختہ کرنے کے لئے دونوں فریق کے دس دس ہزار سمجھدار لوگوں کے اس پر دستخط ہوں۔
پیارو !! صلح جیسی کوئی بھی چیزنہیں۔ آو ہم اس معاہدہ کے ذریعہ سے ایک ہو جائیں۔ اور ایک قوم بن جائیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ باہمی تکذیب سے کسی قدر پھوٹ پڑگئی ہے۔ اور ملک کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے۔ آؤ اب یہ بھی آزما لو کہ باہمی تصدیق کی کس قدر برکات ہیں۔ بہترین طریق صلح کایہی ہے۔ ورنہ کسی دوسرے پہلو سے صلح کرنا ایسا ہی ہے کہ جیسا کہ ایک پھوڑے کو جو شفاف اور چمکتا ہوا نظر آتا ہے اسی حالت میں چھوڑ دیں اور اس کی ظاہری چمک پرخوش ہوجائیں۔ حالانکہ اس کے اندر سڑی ہوئی اور بدبو دار پیپ موجود ہے۔
مجھے اِس جگہ ان باتوں کا ذکر کرنے سے کچھ غرض نہیں کہ وہ نفاق اور فساد جو ہندواور مسلمانوں میں آج کل بڑھتا جاتاہے۔ ا س کے وجوہ صرف مذہبی اختلافات تک محدود نہیں ہیں بلکہ دُوسری اغراض اس کی وجوہ ہیں جو دُنیا کی خواہشوں اور معاملات سے متعلق ہیں۔ مثلاً ہندوؤں کی ابتدا سے یہ خواہش ہے کہ گورنمنٹ اور ملک کے معاملات میں ان کا دخل ہو یاکم سے کم یہ کہ ملک داری کےؔ معاملات میں ان کی رائے لی جائے اور گورنمنٹ ان کی ہر یک شکایت کو توجہ سے سنے۔ اور بڑے بڑے گورنمنٹ کے عہدے انگریزوں کی طرح ان کو بھی ملا کریں۔ مسلمانوں سے یہ غلطی ہوئی کہ ہندوؤں کی ان کوششوں میں شریک نہ ہوئے اور خیال کیا کہ ہم تعداد میں کم ہیں اور یہ سوچا کہ ان تمام کوششوں کا اگر کچھ فائدہ ہے تو وہ ہندوؤں کے لئے ہے نہ کہ مسلمانوں کے لئے۔ اس لئے نہ صرف شراکت سے دستکش رہے۔ بلکہ مخالفت کرکے ہندوؤں کی کوشش کے