تھا۔ اور وہ اس بات کا قائل نہ تھا۔ کہ جو کچھ ہے وید ہے آگے کچھ نہیں۔ اور نہ وہ قوم اور ملک اور خاندان کی خصوصیت کااقراری تھا یعنی یہ مذہب اس کانہیں تھا کہ گویا وید پر ہی سب کچھ حصر ہے اور یہی زبان اور یہی ملک اور یہی برہمن پرمیشر کے الہام کے لئے ہمیشہ کے لئے اس کی عدالت میں رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اُس نے اس اختلاف سے بڑا دُکھ اٹھایا اور اس کا نام ایک دہریہ اور ناستک مت والا رکھا گیا۔ جیسا کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے تمام محقق جو حضرت عیسیٰ کی خدا ئی کو منظور نہیں کرتے۔ اور اُن کے دل اس بات کو نہیں مانتے کہ خدا کو بھی سُولی دے سکتے ہیں۔ وہ تمام لوگ حضرات پادری صاحبوں کے خیال میں دہریہ ہیں۔
سو اسی قسم کا بدھ بھی دہریہ ٹھہرایا گیا۔ اور جیسا کہ شریر مخالفوں کا دستور ہے عام لوگوں کو نفرت دلانے کی بہت سی تہمتیں اس پر لگائی گئیں۔ آخر انجام یہ ہوا کہ بدھ آریہ ورت سے جوؔ اس کی زادوبوم اور وطن تھا نکالا گیا۔ اور اب تک ہندو لوگ بدھ مذہب اور اس کی کامیابی کو بڑی نفرت او رحقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر حسب قول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ نبی بے عزت نہیں مگر اپنے وطن میں دوسرے ملک کی طرف بدھ نے ہجرت کرکے بڑی کامیابی حاصل کی۔ جیسا کہ بیان کیاجاتا ہے کہ تیسرا حصہ دنیا کا بدھ مذہب سے پُر ہے اور کثرت پیروؤں کے لحاظ سے اس کااصل مرکز چین اور جاپان ہے۔ اگرچہ وہ جنوبی رُوس اور امریکہ تک پھیل گیا ہے۔
اب پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ جن زمانوں میں ایک مذہب دوسرے مذہب سے بے خبر تھا۔ اس بے خبری کے عالم میں یہ ایک لازمی امر تھا کہ ہر یک قوم اپنے مذہب اور اپنی کتاب پر ہی حصر رکھتی مگر اس حصر کا آخر کار نتیجہ یہ ہوا کہ جب ایک ملک دوسرے ملک کے وجود سے اطلاع پاگیا۔ اور ممالک مختلفہ کے لوگ ایک دوسرے کے مذہب سے مطلع ہوگئے۔ تب اُن کے لئے یہ مشکل پڑی کہ ایک ملک کامذہب دُوسرے