کے پابند ہیں جیسے پارسی۔ جو اپنے مذہب کی بنیاد وید سے کئی ارب سال پہلے بتلاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خیال (کہ ہمیشہ کے لئے اپنے ملک اور اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی زبان کو ہی خدا کی وحی اور الہام سے مخصوص کیا گیا ہے) محض تعصب اور کمی معلومات سے پیدا ہوا ہے۔چونکہ پہلے زمانے دنیا پر ایسے گذرے ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کے حالات سے ؔ اور ایک ملک دوسرے ممالک کے وجود سے بکلی بے خبر تھی پس ایسی غلطی سے ہر ایک قوم کو جو خدا کی طرف سے کوئی کتاب ملی یا کوئی خدا کا رسول اور نبی اس قوم میں آیا تو اس قوم نے یہی خیال کرلیا کہ جو کچھ خدا کی طرف سے ہدایت ہونی چاہیئے تھی وہ یہی ہے اور خدا کی کتاب صرف انہیں کے خاندان اور انہی کے ملک کو دی گئی ہے اور باقی تمام دنیااس سے بے نصیب پڑی ہے۔ اس خیال نے دنیا کو بہت نقصان پہنچایا۔ اور دراصل باہمی کینوں اور بغضوں کے بیج جو قوموں میں بڑھتے گئے یہی خیال تھا۔ ایک مدت تک تو ایک قوم دوسری قوم سے پردہ میں رہی اور ایک ملک دوسرے ملک سے مخفی اور مستور رہا۔ یہاں تک کہ آریہ ورت کے فاضلوں کا یہ خیال تھا کہ کوہ ہمالہ کے پرے کوئی آبادی نہیں۔ پھر جب کہ خدا نے درمیان سے پردہ اٹھا لیا اور زمین کی آبادی کے متعلق کسی قدر لوگوں کے معلومات وسیع ہوگئے تووہ ایک ایسا زمانہ تھا کہ وہ تمام غلط خصوصیتیں جو الہامی کتابوں اور اپنے رشیوں اور رسولوں کی نسبت لوگوں نے اپنے ہی دلوں سے تراش کر اپنے عقائد میں داخل کرلی تھیں وہ ان کے دلوں میں خوب راسخ اور پتھر کے نقش کی طرح ہوگئیں۔اور ہر ایک قوم یہی خیال کرتی تھی کہ خدا کا صدر مقام ہمیشہ انہیں کے مُلک میں ؔ رہا ہے۔ اور چونکہ اُن دنوں میں اکثر قوموں پر وحشیانہ خصلتیں غالب تھیں۔ اور ایک پرانی رسم کے مخالف کو تلوار کے ساتھ جواب دیا جاتا تھا۔ اس لئے کس کی مجال تھی کہ ہر ایک قوم کی خود ستائی کے جوشوں کو ٹھنڈا کرکے اُن کے درمیان صلح کراتا۔ گوتم بدھ نے اس صلح کا ارادہ کیا