ملک کے مذہب کی تصدیق کرسکے۔ کیونکہ ہر ایک مذہب کے لئے جو شاعر انہ طور پر مبالغہ کرکے خصوصیتیں اور فضیلتیں مقررہوچکی تھیں اُن کا دُورؔ کرنا کچھ سہل کام نہ تھا۔ اس لئے ہریک اہل مذہب نے دوسرے مذہب کی تکذیب پر کمربستہ کی۔ ژند واستا کے مذہب نے ہمچومن دیگرے نیست کا جھنڈا کھڑا کردیا۔ اور سلسلہ پیغمبری کو اپنے خاندان تک ہی محدود رکھا اور اپنے مذہب کی اتنی لمبی تاریخ بتلائی کہ وید کی تاریخ بتلانے والے اُن کے سامنے شرمندہ ہیں۔
ادھر عبرانیوں کے مذہب نے حد ہی کردی کہ ہمیشہ کے لئے خدا کا تخت گاہ ملک شام ہی قرار دیا گیا اور ہمیشہ انہیں کے خاندان کے برگزیدہ لوگ اس لائق قرار پائے کہ وہ ملک کی اصلاح کے لئے بھیجے جائیں۔ مگر حکمًا وہ اصلاح بنی اسرائیل تک ہی محدود رہی۔ اور انہیں کے خاندان پر الہام اور خدا کی وحی کی مہر لگ گئی اور جودوسرا اٹھے وہ کاذب کہلاوے۔
ایسا ہی آریہ ورت میں بھی بعینہٖ یہی خیالات شائع ہوگئے جو اسرائیلیوں میں شائع ہوئے اور اُن کے عقیدہ کی رُو سے پرمیشر صرف آریہ ورت کا ہی راجہ ہے اور راجہ بھی ایسا جس کو دوسرے ملکوں کی خبر ہی نہیں اور بغیر کسی دلیل کے یہ مانا جاتا ہے کہ جب سے پرمیشر ہے اس کو آریہ ورت کی ہی آب و ہوا پسند آگئی ہے۔ وہ ہرگز چاہتا نہیں کہ دوسرے ملکوں میں بھی کبھی دورہ کرے اور کبھی ان بیچاروں کی خبر بھی لے جن کو وہ پیدا کرکے بھول گیا۔
دوستوؔ ! برائے خدا یہ سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ عقائد ایسے ہیں جن کو انسانی فطرت قبول کرسکتی ہے یا کوئی کانشنس ان کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔ میں نہیں سمجھ سکتا کہ یہ کس قسم کی عقلمندی ہے کہ ایک طرف خدا کو تمام دنیا کا خدا ماننا اور پھر اسی منہ سے یہ بھی کہنا کہ وہ تمام دنیا کی ربوبیت کرنے سے دستکش ہے۔ اور صرف ایک خاص قوم اور ایک خاص ملک پر اس کی نظر رحم ہے۔ عقلمندو !! خود انصاف کرو کہ کیا خدا کے جسمانی قانون قدرت میں اس کی کوئی شہادت ملتی ہے۔ پھر اس کا روحانی قانون کیوں ایسی طرفداری پر مبنی ہے۔