نہیںؔ لکھ سکتے۔ ناظرین خود سوچ لیں اور سمجھ لیں کہ جس مذہب نے پرمیشر کی خدائی پر وہ داغ لگایا ہے کہ گویا اُس کو پرمیشر ہونے سے ہی جواب دے دیا اور پھر انسانی پاکیزگی پر وہ داغ لگایا کہ آریہ ورت کی کروڑہا شریف عورتوں کو غیر مردوں سے ہمبستر کرا دیا اور ان کی عفّت کو خاک میں ملا دیا۔ کیا ایسے مذہب سے کوئی پاک گیان یا پاک ہدایت سکھلانے کی توقع ہوسکتی ہے ؟ مگر پھر بھی ہم یہ الزام وید پر لگانا نہیں چاہتے اصل بات یہ ہے کہ بعض جوگی یا سنیاسی جو بظاہر مجردانہ زندگی بسر کرتے تھے اور اندر سے سخت ناپاک تھے انہوں نے نا محرم عورتوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے لئے نادان لوگوں کو یہ باتیں سکھائی تھیں اور ظاہر کیا تھا کہ گویا وید کی یہی ہدایتیں ہیں اور تا اُن کے لئے بدکاری کا دروازہ کھل جائے اور اس طرح پر و ہ اپنے نفسانی جذبات کو پورا کرلیں اس بارے میں
ڈاکٹر برنیئر نے
اپنی کتاب میں بہت کچھ لکھا ہے اور اُس نے بیان کیا ہے کہ میں نے جگن ناتھ کے مقام میں ہزاروں ہندو عورتیں دیکھی ہیں جن کی جوگیوں اور سنیاسیوں سے آشنائی تھی اور حماقت سے یہ سمجھتی تھیں کہ وہ آشنائی اُن کے لئے مکتی کا موجب ہوگئی ہے۔
پھر مضمون خواں صاحب نے اپنے مضمون میں بیان کیا کہ پرماتما کی کوئی شکل اور صورت نہیں حالانکہ وید نے اُسی پرماتما کے نام اگنی۔ وایو۔ جل۔ دھرتی۔ سورج۔ چاند وغیرہ رکھے ہیں اور وہی محدود صفات آگ اور ہوا وغیرہ کے اس میں قائم رکھے ہیں پھر کیونکر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی کوئی شکل اور صورت نہیں۔ کیا ہوا اپنے کُرّہ میں اور آگ اپنے کُرّہ میں اور ایسا ہی سورج اور چاند شکل اور صورت سے خالی ہیں۔ جو شخص چند ورق رگ وید کے پڑھے گا اس کو معلوم ہو جائے گا کہ وید کی تعلیم کی رُو سے یہ سب عناصر واجرام فلکی خدا ہی ہیں اور پھر مخلوق بھی ہیں۔ ہم نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں بڑا حصہ اُن شرتیوں کا لکھ دیا ہے جن میں یہ ذکر ہے ا س لئے دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وید کا خواہ کچھ مطلب تھا مگر آریہ ورت کے کروڑہا ہندوؤں نے اور بڑے بڑے