اورایک ہی زبان اُس کو پسند آگئی ہے اور میں سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کس قسم کی منطق اور کس نوع کا فلسفہ ہے کہ پرمیشر ہر ایک آدمی کی دُعا اور پرارتھنا کو اس کی زبان میں سمجھ تو سکتا ہے اور نفرت نہیں کرتا مگر اس بات سے سخت نفرت کرتا ہے کہ بجز ویدک سنسکرت کے کسی اور زبان میں دلوں پر الہام کرے۔ یہ فلاسفی یا وید وِدّیا اس سربستہ معمّا کی طرح ہے جو اب تک کوئی انسان اس کو حل نہیں کرسکا۔ میں وید کو اس بات سے مُنزّہ سمجھتا ہوں کہ اس نے کبھی اپنے کسی صفحہ پر ایسی تعلیم شائع کی ہو کہ جو نہ صرف خلاف عقل ہو بلکہ پرمیشر کی پاک ذات پر بخل اور پکش پات کا داغ لگاتی ہو بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی الہامی کتاب پر ایک زمانہ دراز گذر جاتا ہے تو اُس کے پیرو کچھ تو بباعث نادانی کے اور کچھ بباعث اغراض نفسانی کے سہواً یا عمداً اس کتاب پر اپنی طرف سے حاشیے چڑھا دیتے ہیں۔ اور چونکہ حاشیہ چڑہانے والے متفرق خیالات کے لوگ ہوتے ہیں اس لئے ایک مذہب سے صدہا مذہب پیدا ہو جاتے ہیں۔ اورؔ یہ عجیب بات ہے کہ جس طرح آریہ صاحبان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیشہ آریہ خاندانوں اور آریہ ورت تک ہی الہام الٰہی کا سلسلہ محدود رہا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی الہام الٰہی کے لئے خاص رہی ہے اور وہ پرمیشر کی زبان ہے۔ یہی یہود کا خیال اپنے خاندان اور اپنی کتابوں کی نسبت ہے۔ اُن کے نزدیک بھی خدا کی اصلی زبان عبرانی ہے اور ہمیشہ خدا کے الہام کا سلسلہ بنی اسرائیل اور انہیں کے ملک تک محدود رہا ہے۔ اور جو شخص اُن کے خاندان اور اُن کی زبان سے الگ ہونے کی حالت میں نبی ہونے کا دعویٰ کرے اُس کو وہ نعوذ باللہ جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پس کیا یہ توارد تعجب انگیز نہیں ہے کہ ان دونوں قوموں نے اپنے اپنے بیان میں ایک ہی خیال پر قدم مارا ہے۔ اسی طرح دنیا میں اور بھی کئی فرقے ہیں جو اسی خیال