کہ پہلے سنتا تھااب بھی سنتا ہے۔ یہ نہیں کہ اب وہ صفات قدیمہ اُس کی معطل ہوگئی ہیں۔ میں تخمیناً تیس۳۰ برس سے خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں۔ اور میرے ہاتھ پر اُس نے اپنے صدہا نشان دکھائے ہیں جو ہزارہا گواہوں کے مشاہدہ میں آچکے ہیں۔ اور کتابوں اور اخباروں میں شائع ہوچکے ہیں۔ اور کوئی ایسی قوم نہیں جو کسی نہ کسی نشان کی گواہ نہ ہو۔ ابؔ باوجود اس قدر متواتر شہادتوں کے یہ تعلیم آریہ سماج کی جو خوانخواہ ویدوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے کیونکر قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ تمام سلسلہ خدا کے کلام اور الہام کا ویدوں پر ختم ہوچکا ہے اور پھر بعد اس کے صرف قصوں پر مدار ہے اور اسی اپنے عقیدہ کو ہاتھ میں لیکر وہ لوگ کہتے ہیں کہ ویدوں کے سوا جس قدر دنیا میں کلام الٰہی کے نام پر کتابیں موجود ہیں وہ سب نعوذ باللہ انسانوں کے افترا ہیں حالانکہ وہ کتابیں وید سے بہت زیادہ اپنی سچائی کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ اور خدا کی نصرت اور مدد کاہاتھ اُن کے ساتھ ہے۔ اور خدا کے فوق العادت نشان اُن کی سچائی پر گواہی دیتے ہیں۔ پھرکیا وجہ کہ وید تو خدا کاکلام مگر وہ کتابیں خدا کا کلام نہیں ؟ اور چونکہ خدا کی ذات عمیق در عمیق اور نہاں در نہاں ہے۔ اس لئے عقل بھی اس بات کو چاہتی ہے کہ وہ اپنے وجود کے ثابت کرنے کے لئے صرف ایک کتاب پر کفایت نہ کرے بلکہ مختلف ملکوں میں سے نبی منتخب کرکے اپنا کلام اور الہام اُن کو عطا کرے تا انسان ضعیف البنیان جو جلد تر شبہات میں گرفتار ہوسکتا ہے دولتِ قبول سے محروم نہ رہے۔ اور اس بات کو عقل سلیم ہرگز قبول کرنے کے لئے طیار نہیں ہے کہ وہ خدا جو تمام دُنیا کا خدا ہے جو اپنے آفتاب سے مشرق اور مغرب کو ؔ روشن کرتا ہے۔ اور اپنے مینہ سے ہر ایک ملک کو ہرایک ضرورت کے وقت سیراب فرماتا ہے۔ وہ نعوذ باللہ رُوحانی تربیت میں ایسا تنگ دل اور بخیل ہے کہ ہمیشہ کے لئے ایک ہی ملک اور ایک ہی قوم