اُس نے کلمہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ کی گواہی دی ہے۔ اور پھر وہ تبرکات دیکھے جو بمقام گروہر سہائے ضلع فیروزپور میں موجود ہیں۔ جن میں ایک قرآن شریف بھی ہے تو کس کو اس بات میں شک ہوسکتا ہے کہ باوا نانک صاحب نے اپنے پاک دل اور پاک فطرت اور اپنے پاک مجاہدہ سے اس راز کو معلوم کرلیا تھا جو ظاہری پنڈتوں پر پوشیدہ رہا۔ اور اُنہوں نے الہام کا دعویٰ کرکے اور خدا کی طرف سے نشان اور کرامات دکھلاکر اس عقیدہ کا خوب کھنڈن اور رَدّ کردیا جو کہا جاتا ہے کہ وید کے بعد کوئی الہام نہیں اور نہ نشان ظاہر ہوتے ہیں۔بلاشبہ باوا نانک صاحب کا وجود ہندوؤں کے لئے خدا کی طرف سے ایک رحمت تھی۔ اوریوں سمجھو کہ وہ ہندو مذہب کا آخری اوتار تھا جس نے اس نفرت کو دور کرنا چاہا تھا جو اسلام کی نسبت ہندوؤں کے دلوں میں تھی۔ لیکن اس ملک کی یہ بھی بدقسمتی ہے کہ ہندو مذہب نے باوا نانک صاحب کی تعلیم سے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔ بلکہ پنڈتوں نے اُن کو دُکھ دیا کہ کیوں وہ اسلام کی تعریف جابجا کرتا ہے۔وہ ہندو مذہب اور اسلام میں صلح کرانے آیا تھا۔ مگر افسوس کہ اس کی تعلیم پر کسی نے توجہ نہیں کی۔ اگر ؔ اُس کے وجود اور اُس کی پاک تعلیموں سے کچھ فائدہ اٹھایا جاتا تو آج ہندو اور مسلمان سب ایک ہوتے۔ ہائے افسوس ہمیں اس تصور سے رونا آتا ہے کہ ایسا نیک آدمی دنیا میں آیا اور گذر بھی گیا۔ مگر نادان لوگوں نے اُس کے نور سے کچھ روشنی حاصل نہیں کی۔
بہرحال وہ اس بات کو ثابت کرگیا کہ خدا کی وحی اور اس کا الہام کبھی منقطع نہیں ہوتا۔ اور خدا کے نشان اس کے برگزیدوں کے ذریعہ سے ہمیشہ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اور اِس بات کی گواہی دے گیا کہ اسلام کی دشمنی نور کی دُشمنی ہے۔
ایسا ہی میں بھی اس بات میں صاحب تجربہ ہوں کہ خدا کی وحی اور خدا کا الہام ہرگز اس زمانہ سے منقطع نہیں کیا گیابلکہ جیسا خدا پہلے بولتا تھااب بھی بولتا ہے۔ اور جیسا