ماسوا اس کے صلح پسندوں کے لئے یہ ایک خوشی کا مقام ہے کہ جس قدر اسلام میں تعلیم پائی جاتی ہے وہ تعلیم ویدک تعلیم کی کسی نہ کسی شاخ میں موجود ہے۔ مثلاً اگرچہ نوخیز مذہب آریہ سماج کا یہ اصول رکھتا ہے کہ ویدوں کے بعد الہام الٰہی پر مُہر لگ گئی ہے مگر جو ہندو مذہب میں وقتاً فوقتاً اوتار پیدا ہوتے رہے ہیں جن کے تابع کروڑہا لوگ اسی ملک میں پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے اُس مہر کو اپنے دعوئے الہام سے توڑ دیا ہے جیسا کہ ایک بزرگ اوتار جو اس ملک اور نیز بنگالہ میں بڑی بزرگی اور عظمت کے ساتھ مانے جاتے ہیں جن کا نام سری کرشن ہے۔ وہ اپنے ملہم ہونے کا دؔ عویٰ کرتے ہیں اور ان کے پیرو نہ صرف اُن کو ملہم بلکہ پرمیشر کرکے مانتے ہیں۔ مگر اس میں شک نہیں کہ سری کرشن اپنے وقت کا نبی اور اوتار تھااور خدا اس سے ہمکلام ہوتا تھا۔ ایسا ہی اس آخری زمانہ میں ہندو صاحبوں کی قوم میں سے بابا نانک صاحب ہیں جن کی بزرگی کی شہرت اس تمام ملک میں زبان زدعام ہے۔ اور جن کی پیروی کرنے والی اس ملک میں وہ قوم ہے جو سکھ کہلاتے ہیں جو بیس لاکھ سے کم نہیں ہیں۔ باوا صاحب اپنی جنم ساکھیوں اور گرنتھ میں کھلے کھلے طور پر الہام کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک جگہ وہ اپنی ایک جنم ساکھی میں لکھتے ہیں کہ مجھے خدا کی طرف سے الہام ہوا ہے کہ دین اسلام سچا ہے۔ اِسی بنا پر انہوں نے حج بھی کیا۔ اور تمام اسلامی عقائد کی پابندی اختیار کی اور بلاشبہ یہ بات ثابت ہے کہ اُن سے کرامات اور نشان بھی صادر ہوئے ہیں اور اس بات میں کچھ شک نہیں ہوسکتا کہ باوا نانک ایک نیک اور برگزیدہ انسان تھا۔ اور ان لوگوں میں سے تھا جن کو خدائے عزّوجلّ اپنی محبت کا شربت پلاتا ہے۔ وہ ہندوؤں میں صرف اس بات کی گواہی دینے کے لئے پیدا ہوا تھا کہ اسلام خدا کی طرف سے ہے۔ جو شخص اس کے وہ تبرکات دیکھےؔ جو ڈیرہ نانک میں موجود ہیں جن میں بڑے زور سے