حال ہے۔ دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جو عین گرمی اور تمازتِ آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے پس اس دشوار گذار راہ کے لئے باہمی اتفاق کے اس سردپانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کرؔ دے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے پچاوے۔
ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کے لئے بلاتا ہے جب کہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔ دنیا پر طرح طرح کے ابتلا نازل ہو رہے ہیں۔ زلزلے آرہے ہیں۔ قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا۔ اور جو کچھ خدا نے مجھے خبردی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بدعملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے توبہ نہیں کرے گی تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی۔ اور ایک بلا ابھی بس نہیں کرے گی کہ دوسری بلا ظاہر ہو جائے گی۔ آخر انسان نہایت تنگ ہو جائیں گے کہ یہ کیاہونے والا ہے۔ اور بہتیری مصیبتوں کے بیچ میں آکر دیوانوں کی طرح ہو جائیں گے۔ سو اے ہموطن بھائیو! قبل اس کے کہ وہ دن آویں ہوشیار ہوجاؤ۔ اور چاہیئے کہ ہندومسلمان باہم صلح کرلیں اور جس قوم میں کوئی زیادتی ہے جو وہ صلح کی مانع ہو اس زیادتی کو وہ قوم چھوڑ دے۔ ورنہ باہم عداوت کا تمام گناہ اسی قوم کی گردن پر ہوگا۔
اگر کوئی کہے کہ یہ کیونکر وقوع میں آسکتا ہے کہ صلح ہو جائے۔ حالانکہ باہم مذہبی اختلاف صلح کے لئے ایک ایسا امر مانع ہے جو دن بدن دلوں میں پھوٹ ڈالتا جاتا ہے۔
میںؔ اس کے جواب میں یہ کہوں گا کہ درحقیقت مذہبی اختلاف صرف اُس اختلاف کا نام ہے جس کی دونوں طرف عقل اور انصاف اور اُمور مشہودہ پر بنا ہو۔ ورنہ انسان کو اسی بات کے لئے تو عقل دی گئی ہے کہ وہ ایسا پہلو اختیار کرے جوعقل اور انصاف سے بعید نہ ہو اور امور محسوسہ مشہودہ کے مخالف نہ ہو۔ اور چھوٹے چھوٹے اختلاف صلح کے مانع نہیں ہوسکتے۔ بلکہ وہی اختلاف صلح کامانع ہوگا جس میں کسی کے مقبول پیغمبر اور مقبول الہامی کتاب پر توہین اور تکذیب کے ساتھ حملہ کیا جائے۔