پس جب کہ ہمارے خدا کے یہ اخلاق ہیں۔ تو ہمیں مناسب ہے کہ ہم بھی اُنہیں اخلاق کی پیروی کریں لہٰذا اے ہم وطن بھائیو! یہ مختصر رسالہ جس کانام ہے پیغام صلح بادب تمام آپ صاحبوں کی خدمت میں پیش کیا جاتاہے۔ اور بصدق دل دُعا کی جاتی ہے کہ وہ قادر خدا آپ صاحبوں کے دلوں میں خود الہام کرے۔ اور ہماری ہمدردی کاراز آپ کے دلوں پر کھول دے تا آپ اس دوستانہ تحفہ کو کسی خاص مطلب اور نفسانی غرض پر مبنی تصور نہ فرماویں۔ عزیزو !! آخرت کا معاملہ توعام لوگوں پر اکثر مخفی رہتا ہے اور اُنہیں پر عَالم عُقبیٰ کا راز کھلتا ہے جو مرنے سے پہلے مرتے ہیں مگر دنیا کی نیکی اور بدی کو ہر ایک دور اندیش عقل شناخت کرسکتی ہے۔ یہ بات کسی پر پوشیدہ نہیں کہ اتفاق ایک ایسی چیز ہے کہ وہ بلائیں جو کسی طرح دُور نہیں ہوسکتیں اوروہ مشکلات جو کسی تدبیر سے حل نہیں ہوسکتیں وہ اتفاق سے حل ہو جاتی ہیں۔ پس ایک عقلمند سے بعیدؔ ہے کہ اتفاق کی برکتوں سے اپنے تئیں محروم رکھے۔ ہندو اور مسلمان اس ملک میں دو۲ ایسی قومیں ہیں کہ یہ ایک خیالِ محال ہے کہ کسی وقت مثلاًہندو جمع ہوکر مسلمانوں کو اس ملک سے باہر نکال دیں گے یا مسلمان اکٹھے ہوکر ہندوؤں کو جلاوطن کردیں گے بلکہ اب تو ہندو مسلمانوں کا باہم چولی دامن کا ساتھ ہو رہا ہے۔ اگر ایک پر کوئی تباہی آوے تو دوسر ا بھی اس میں شریک ہوجائے گا۔ اور اگر ایک قوم دوسری قوم کو محض اپنے نفسانی تکبر اور مشیخت سے حقیر کرنا چاہے گی تو وہ بھی داغِ حقارت سے نہیں بچے گی۔ اور اگر کوئی اُن میں سے اپنے پڑوسی کی ہمدردی میں قاصر رہے گا تو اس کانقصان وہ آپ بھی اُٹھائے گا جو شخص تم دونوں قوموں میں سے دوسری قوم کی تباہی کی فکرمیں ہے اُس کی اس شخص کی مثال ہے کہ جو ایک شاخ پر بیٹھ کر اُسی کو کاٹتا ہے۔ آپ لوگ بفضلہ تعالیٰ تعلیم یافتہ بھی ہوگئے۔ اب کینوں کو چھوڑ کر محبت میں ترقی کرنا زیبا ہے اور بے مہری کو چھوڑ کر ہمدردی اختیار کرنا آپ کی عقلمندی کے مناسب