اُس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں۔ بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا۔ اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے اُن کے مناسب حال اُن کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہےؔ ۔ ایساہی اس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو رُوحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔ جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے۔3 ۱ یا کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا۔
سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہرایک بندہ کا فرض ہے وہ ربّ العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں۔ اور نہ کسی خاص زمانہ تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا ربّ ہے اور تمام زمانوں کا ربّ ہے۔ اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی ربّ ہے اور تمام فیضوں کاوہی سرچشمہ ہے۔ اور ہر ایک جسمانی اور رُوحانی طاقت اسی سے ہے اور اسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں۔ اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔
خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کاموقعہ نہ ملے۔ اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا۔ مگر ہم پرنہ کیا۔یا فلاں قو م کو اس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانہ میں وہ اپنی وحی اور الہام اور ؔ معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانہ میں مخفی رہاپس اُس نے عام فیض دکھلاکر ان تمام اعتراضات کو دفع کردیا۔ اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا۔ اور نہ کسی زمانہ کو بے نصیب ٹھہرایا۔