دیکھ کر پھر بھی اُن کی کچھ پروا نہیں کی۔ جیسا کہ انجیل میں بھی لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں صرف اسرائیل کی بھیڑوں کے لئے آیا ہوں۔ اس جگہ ہم ایک فرض محال کے طور پر کہتے ہیں کہ خدائی کا دعویٰ کرکے پھر ایسا تنگ خیالی کاکلمہ بڑے تعجب کی بات ہے۔ کیا مسیح صرف اسرائیلیوں کاخدا تھا اور دوسری قوموں کاخدا نہ تھا جو ایسا کلمہ اُس کے منہ سے نکلا کہ مجھے دوسری قوموں کی اصلاح او ر ہدایت سے کچھ غرض نہیں۔ غرض یہودیوں اور عیسائیوں کا یہی مذہب ہے کہ تمام نبی اور رسول انہیں کے خاندان سے آتے رہے ہیں۔ اور انہیں کے خاندان میں خدا کی کتابیں اُترتی رہی ہیں۔ اور پھر بموجب عقیدہ عیسائیوں کے وہ سلسلہ الہام اور وحی کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ختم ہوگیا۔ اورخدا کے الہام پر مُہر لگ گئی۔ انہیں خیالات کے پابند آریہ صاحبان بھی پائے جاتے ہیں یعنی جیسے یہود اور عیسائی نبوت اور الہام کو اسرائیلی خاندان تک ہی محدود رکھتے ہیں اور دوسری تمام قوموں کو الہام پانے کے فخر سے جواب د ے رہے ہیں۔ یہی عقیدہ نوع انسان کی بدقسمتی سے آریہ صاحبان نےؔ بھی اختیار کر رکھا ہے یعنی وہ بھی یہی اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا کی وحی اور الہام کا سلسلہ آریہ ورت کی چار دیواری سے کبھی باہر نہیں گیا۔ ہمیشہ اسی ملک سے چار رشی منتخب کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ وید ہی بار بار نازل ہوتا ہے اور ہمیشہ ویدک سنسکرت ہی اس الہام کے لئے خاص کی گئی ہے۔ غرض یہ دونوں قومیں خدا کو ربّ العالمین نہیں سمجھتیں ورنہ کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ جس حالت میں خدا ربّ العالمین کہلاتا ہے نہ صرف ربّ اسرائیلیاں یا صرف ربّ آریاں تو وہ ایک خاص قوم سے کیوں ایسا دائمی تعلق پیدا کرتا ہے جس میں صریح طور پر طرف داری اور پکش پات پائی جاتی ہے۔ پس ان عقائد کے ردّ کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ3 ۱؂ اور جابجا