اِس ؔ کے اُس کو مکتی نہیں ملے گی۔ سوچنے کا مقام ہے کہ بازاری عورتیں بھی اگرچہ ایسے گندے کام کرتی ہیں مگر پھر بھی وہ ایسی عورتوں سے ناپاکی میں کمتر ہیں جو باوجود خاوندوں کے ہونے کے دوسروں سے ہم بستر ہوتی ہیں۔ اور اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دیدے اور وہ عورت قطع تعلق کے بعد دوسرے سے نکاح کرے تو اس پر عند العقل کوئی اعتراض نہیں کیونکہ میاں بیوی کا رشتہ نکاح ٹوٹنے کے بعد مُطلّقہ سے نکاح کرنا کوئی اعتراض کی جگہ نہیں۔وجہ یہ کہ اس صورت میں وہ اس پہلے شخص کی بیوی نہیں رہی مگر اس بے غیرتی کو دنیا کی کوئی قوم بجز آریوں کے پسند نہیں کرتی اور اس سے مرنا بہتر سمجھتے ہیں کہ اپنی منکوحہ بیوی ہونے کی حالت میں دوسرے سے ہمبستر کراویں اِس عقیدہ سے ظاہرہے کہ وید کی رُو سے حرامکاری کا وقوع میں آنا کچھ مضائقہ نہیں ہاں یہ ضروری ہے کہ کسی طرح لالہ صاحب کے گھر میں اولاد پیدا ہو جاوے۔
پس جو لوگ وید کی تعلیم کے پابند ہوکراپنی عورتوں کو دوسروں سے ہمبستر کراتے ہیں اور بیرج داتا کی تلاش میں لگے رہتے ہیں ایسے لوگ اگر خدا کے پاک نبیوں کی توہین کریں تو کوئی محل شکایت نہیں کیونکہ جب کہ اُن کی فطرت سے پاکیزگی کی حس ہی جاتی رہی ہے تو وہ تمام دُنیا کو اپنے نفس پر خیال کر لیتے ہیں اور عجیب تر یہ کہ اِس ناپاک مراد کے لئے کوئی یقینی راہ کامیابی کی بھی نہیں۔ بہتیری آریہ زاد ایسی عورتیں ہیں کہ د۱۰س د۱۰س برس تک بہ بہانہ نیوگ حرام کاری کراتی رہتی ہیں اور رات کو خاوندوں کو چھوڑ کر غیر مردوں کے ساتھ جاسوتی ہیں پھر بھی کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوتا اور بجائے کوئی لڑکا پیدا ہونے کے ایک خراب عادت اُن میں پیدا ہوجاتی ہے اور وہ یہ کہ چونکہ ایک مدت دراز تک غیر مردوں کے ساتھ وہ تعلق کرتی رہتی ہیں اور دل میں جانتی ہیں کہ وہ اُن کے خاوند نہیں ہیں مگر پھر بھی اُن سے ہمبستر ہو جاتی ہیں آخر کار اِس دائمی مشق سے تمام شرم و حیا اُن کی اُٹھ جاتی ہے ہم اس سے زیادہ اس جگہ کچھ