یادؔ رہے کہ اگر انسان اپنے جھوٹے فلسفہ اور منطق کا شیفتہ ہوکر خدا تعالیٰ کی ہستی اور صفات کی نسبت اس طرز سے تحقیقات کرنا چاہے جس طرز سے مخلوقات کے وجود کی تحقیقات کی جاتی ہے تو پھر وہ اس گرداب سے ہرگز سلامت نہیں نکلے گا بلکہ کسی مرحلہ پر جاکر ضرور ہلاک ہوگا۔ مثلاً وہ سوچے گا کہ خدا نے یہ بنایا اور یہ بنایا تو اُس کے دل میں سوال پیدا ہوگا کہ خدا کو کس نے بنایا اور ایسا ہی اُس کے دل میں گمراہ کرنے والے بہت سے سوال پیدا ہوں گے مثلاً یہ کہ وہ کہاں ہے اور کیوں دکھائی نہیں دیتا اور ان سوالوں کے بیچ میں آکر اس کا ایمان ایسا پیسا جائے گا جیسا کہ چکّی میں پڑکر دانہ پیسا جاتا ہے۔ بلکہ جانناچاہئے کہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور شناخت کی یہ طرز نہیں ہے جس طرز کو دوسری قوموں نے اختیار کیا ہے اور اس بیجادخل کا ہمیشہ نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یا توایسے لوگ آخر کار دہریہ بن گئے ہیں کیونکہ خدا کے وجود اور اُس کی صفات کی عقلی طور پر تشریح معلوم کرنے کے لئے جن باتوں پر انہوں نے بھروسہ کیا تھا وہ باتیں اُن کے دلوں کو کامل تسلی نہ دے سکیںآخر اپنے دلائل کو ناکافی سمجھ کر خدا کے وجود سے ہی منکر ہو گئے اسی وجہ سے یہ فرقہ ناستک مت کا آریہ ورت میں سب ملکوں سے زیادہ اور بکثرت پایا جاتاہے اور بعض ایسے فرقے اسی وجہ سے پیدا ہوگئے کہ انہوں نے اپنے دلوں کو تسلّی دینے کے لئے اور چیزوں کو بمنزلہ خدا کے بنا لیا پس آریہ میں جس قدر ایسی قومیں پیدا ہوگئیں کہ وہ سورج اور چاند اور آگ اور پانی اور پتھروں وغیرہ کی پرستش کرتے ہیں وہ پرستش دراصل اسی گھبراہٹ کا ایک نتیجہ ہے۔ اگر یہ بیجا دخل خدا کی ذات اور صفات میں نہ دیا جاتا تو یہ فرقے بہت کم پیدا ہوتے۔ اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خدا کے وجود کی ایک ڈاکٹر یا جرّاح کی طرح تشریح کرنا ناجائز قرار دیا ہے اور فرمایا کہ 33 ۱؂ یعنی جس طرح خدا کی ذات انسان کے علم اور فہمؔ سے برتر