ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے افعال بھی انسان کے علم اور فہم سے برتر ہیں اور خدا نے قرآن شریف میں زبردست نشانوں کے ساتھ اپنی ذات اور صفات کو ثابت کیا ہے اور انسانی عقل کو وہ تکلیف نہیں دی جس کے وہ لائق نہیں۔ ہاں اپنی بعض ایسی مخلوقات کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ معمولی عقل اُن کے وجود کو سمجھ نہیں سکتی جیسے فرشتے جو پوشیدہ طورپر خدا نے بعض بعض خدمات کے لئے مقرر کئے ہیں۔ مثلاً جیسا کہ وحی اور الہام کے پہنچانے کے لئے ایک نادان کہے گا کہ جب کہ خدا قادر مطلق ہے تو پھر فرشتوں کے بنانے کے لئے کیا ضرورت پیش آئی ؟ اس کا اسی قدر جواب کافی ہے کہ اُسی طرح ضرورت پیش آئی جیسا کہ باوجود خدا کے قادر ہونے کے کانوں تک آواز پہنچانے کے لئے ہوا کی ضرورت پیش آئی اور آنکھوں کو راہ دکھانے کے لئے سورج کی ضرورت پیش آئی۔ اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ نظام جسمانی میں خدا نے بعض چیزوں کی تکمیل کے لئے بعض اسباب رکھے ہیں اسی طرح نظام روحانی میں بھی وہ اسباب ہیں تا دونوں نظام باہم مطابق ہوکر ایک خدا پر دلالت کریں۔ اسی طرح شیطان کے وجود پر بھی بعض نا سمجھ اعتراض کرتے ہیں کہ گویا خدا نے خود لوگوں کو گمراہ کرنا چاہا۔ مگر یہ بات نہیں ہے بلکہ ہرایک دانا اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ ہر ایک انسان میں دو قوتیں ضرور پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک قوت کو عربی میں لمّہ شیطان کہتے ہیں اور دوسری قوت کو لمّہ ملک یعنی انسانی فطرت میں یہ بات مشہود ہے کہ کبھی نامعلوم اسباب سے نیک خیال اس میں پیدا ہوتا ہے اور نیک کاموں کی طرف دل رغبت کرتا ہے اور پھر کبھی بدخیال اس کے دل میں اٹھتا ہے اور بدی اور بدکاری اور ظلم اور شرکی طرف اُس کی طبیعت مائل ہو جاتی ہے۔ پس وہ قوت جو بدخیال کا منبع ہے قرآنی تعلیم کی رُو سے وہ شیطان ہے اور وہ قوت جو نیک خیال کا منبع ہے وہ فرشتہ ہے۔ پس ان دونوں قوتوں کو جو مشہود و محسوس ہیں بہرحال ماننا ہی پڑتا ہے خواہ تم کسی رنگ میں مان لو ، اسی طرح