پڑا اور میرا کُرتہ اس پانی سے تَر ہوگیا حالانکہ ہم چھت کے نیچے بیٹھے تھے اور محال تھا کہ وہ پانی کسی جگہ سے گرتا اور وہ کُرتہ میاں عبد اللہ سنوری نے تبرک کے طور پر مجھ سے لے لیا اور اب تک موجود ہے۔ اب ؔ کوئی اس قصہ کو باور کرے یا نہ کرے۔ مگر اس پر ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ بھی خدا نے ایک مادہ نیست سے ہست کیا تھا۔ یہ اعتقاد کہ نیست سے خدا ہست نہیں کرسکتا محض اس شخص کے لئے زیبا ہے کہ جس نے خدا کے تمام اسرار پر اطلاع پالی ہے ورنہ محض دخل بیجا ہے۔ جو کچھ خدا سے پیدا ہوتا ہے اگرچہ نیست سے ہست ہوتا ہے مگر وہ اس قسم کا نیست نہیں ہو تا جو انسان سمجھ سکتا ہے بلکہ یہ بھید خدا کو معلوم ہے۔ اگر یہ عقیدہ چھوڑ دیا جائے کہ سب چیزیں خدا تعالیٰ سے نکلی ہیں اور اُس کی مخلوق ہیں تو پھرخدا اور چیزوں کے برابر ہو جاتا ہے اور تمام چیزوں سے خدا کا تصرف اٹھ جاتا ہے اور یہ ماننا پڑتا ہے کہ ان خود بخود چیزوں کو خدا کے سہارے کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور اگر اس کا وجود نہ ہو تب بھی اُن کا کچھ حرج نہیں اور اس صورت میں رُوح کے تزکیہ کے متعلق دُعا بھی محض بیکار اور عبث ہو جاتی ہے کیونکہ جن چیزوں کو اُس نے پیدا ہی نہیں کیا ان کی کمی بیشی اُس کے اختیار میں کیونکر ہوسکتی ہے۔ اور نیز اس صورت میں اس کے وجود پر کوئی دلیل باقی نہیں رہتی۔ کیونکہ جب کہ تمام رُوح خود بخود ہیں اور اُن کی تمام طاقتیں بھی خود بخود۔ اورذرّات یعنی پرمانو بھی خود بخود ہیں اور اُن کی طاقتیں بھی خود بخود۔ تو پھر پرمیشر کے وجود پر قطعی طور پرکونسی دلیل باقی رہی۔ کوئی ہمیں سمجھا وے کیونکہ صرف جوڑنا اور جدا کرنا اُن روحوں اور ذرّات کا جو خود بخود ہیں پرمیشر کی ہستی پر کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔ کیا جائز اور ممکن نہیں کہ وہ روحیں اور وہ ذرّات جو خود بخود ہیں اُن کا اِتّصال اور اِنْفِصَال بھی خود بخود ہو اور خود بخود مل جائیں اور خود بخود علیحدہ ہو جائیں۔