ہے ؟ پس یہ جرأت او ربے باکی ہے کہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ رُوح اور ذرّات خدا کی مخلوق نہیں کیونکہ وہ نیستی سے ہست نہیں کرسکتا اسی وجہ سے وہ دائمی نجات بھی نہیں دے سکتا گویا خدا کی تمام حدبست کرلی گئی ہے اور تمام طاقتیں اُس کی انسان نے جانچ لی ہیں اور وہ محدود ہوگیا ہے۔ اے ہم وطن پیارو ! یہ باتیں صحیح نہیں ہیں اور میں کبھی تسلیم نہیں کروں گا کہ اگر ایسی عبارت کوئی وید میں ہے تو وید کا یہی منشاء ہے جو آپ نے سمجھ لیا ہے۔ ہم خدا کی عمیق در عمیق قدرتوں تک کہاں پہنچ سکتے ہیں ہر ایک امرؔ اُس کا ہمارے علم سے بلند تر ہے۔ کیا جس نے سورج اور چاند اور ستارے بنائے اور زمین کو ہمارے رہنے کے لئے بچھا یا ہم کوئی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان چیزوں کے بنانے کے لئے وہ مدت اُس کو درکار تھی جو انسان کو کسی چیز کے بنانے میں درکار ہوتی ہے؟ کیا کوئی بیان کرسکتا ہے کہ ان چیزوں کے لئے کن چھکڑوں پر مصالح آیا تھا یعنی اینٹیں وغیرہ اور کن معماروں نے بنایا تھا ؟ بلکہ اس کے حکم سے سب چیزیں بن گئیں۔ تو کیا ہم انسان کے کاموں پر اُس کے کاموں کا قیاس کرسکتے ہیں؟ جو شخص اس کی قدرتوں پر محیط ہونا چاہتا ہے وہ دراصل اُس کا منکر ہے خدا نے ہمیں صرف اتنا علم دیا ہے کہ یہ تمام رُوحیں اور سب چیزیں خدا کے کلمے ہیں یعنی کلمہ سے پیدا ہوتی ہیں۔یہ ایک ربوبیّت کا بھید ہے اور اُس کے کارخانہء قدرت میں ہزاروں اسرار ہیں کون اُن کو حل کرسکتا ہے۔ مجھے یاد آیا کہ ایک دفعہ میں نے عالم کشف میں اپنے خدائے ذوالجلال کو تمثیلی طور پر دیکھا اور میں نے کئی پیشگوئیاں لکھ کر چاہا کہ اس پر دستخط کرالوں اور عالم مثالی میں خدا تعالیٰ کی تمثیلی صورت مجھے نظر آئی اور جب میں نے وہ کاغذ پیش کیا تو خدائے عزّوجل نے سُرخی کی سیاہی سے اُس پر دستخط کردیئے اور دستخط کرنے سے پہلے قلم کو چھڑکا تو وہ سرخ رنگ کا پانی میرے کپڑوں پر پڑا اور ایک مخلص عبد اللہ نام سنور کا رہنے والا جو ریاست پٹیالہ میں ملازم ہے وہ میرے پاس بیٹھا تھا اس پر بھی وہ پانی سرخ رنگ کا