کرے گا جو کرنی چاہیئے پس محبت او ر ادب پیدا ہونے کے لئے معرفت ضروری ہے مگر اُسی قدر جس کو محبت چاہتی ہے جیسا کہ ہم ابھی بیان کرچکے ہیں معرفت محبت پر مقدم ہے اور محبت معرفت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی محبت سے پہلے اس کی معرفت ضروری ہے مگر اُسی قدر معرفت جو محبت کے لئے ضروری ہے لیکن اُس معرفت کو اس جگہ کچھ تعلق نہیں جو ایک ڈاکٹر پیٹ چیر کر یا سر پھوڑ کر حاصل کرتا ہے بلکہ صرف اس قدر معرفت چاہیئے جو بیٹے کے لئے اپنے باپ کی شناخت کے لئے ضروری ہے۔ اگر قرآن شریف کو اوّل سے آخرتک پڑھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ وہ اسی معرفت کو سکھاتا ہے جس سے محبت پیدا ہو اور عشقِ الٰہی دل میں جوش مارے۔ تم سمجھ سکتے ہو کہ ایک شخص کو کسی پر عاشق بنانے کے لئے صرف اس قدر ضروری ہے کہ یہ بیان کیا جائے کہ وہ حسن میں یکتا ہے وہ خوبصورتی میں بے نظیر ہے اُس کی صورت میں ملاحت ہے اُس کی آنکھیں دلوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں اُس کے لب شیریں ہیں اور اُس کی آواز دلکش ہے اور چہرہ اُس کا چاند کی طرح چمکتا ہے اوروہ اپنے حسن اور خوبی اور ملاحت میں بے نظیر اور وحدہٗ لاشریک ہے یہ تو ضروری نہ ہوگا کہ آپ اُس کی اندرونی بناوٹ اور معدہ اور تلی اور پھپھرہ اور گُردوں وغیرہ کا کچھ ذکر کریں کہ یہ امور حسن سے بے تعلق ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے جو کچھ اپنی خوبیوں کا قرآن شریف میں ذکر کیا ہے وہ تمام حسن اور محبوبانہ اخلاق کے بیان میں ہے اور اُس کے پڑھنے سے صریح معلوم ہوتا ہے کہ وہ پڑھنے والے کو خدا کاعاشق بنانا چاہتا ہے۔ چنانچہ اُس نے ہزارہا عاشق بنائے اور میں بھی اُن میں سے ایک ناچیز بندہ ہوں۔ کون ہے جو خدا کے اندرونی حالات کی تشریح کرے۔ خدا کے رگ پٹھے پہچاننے والا کونسا ڈاکٹر ہے اور جب کہ انسانی بناوٹ کی اب تک تشریح ختم نہیں ہوئی اور ایسی خورد بین اب تک میسر نہیں آئی کہ وہ کیڑے دکھائی دے جائیں جو انسان کو ایک دم میں ہلاک کر دیتے ہیں تو پھر خدا کے صفات کی تشریح کیونکر ہوسکتی