کی ؔ ہے وہی وید کا گیان ہے تو تناسخ کے عقیدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پرمیشر پاکیزگی کی راہوں پر چلانا نہیں چاہتا کیونکہ تناسخی جنم کے ساتھ کوئی فہرست پر میشر نہیں بھیجتا جس سے معلوم ہوکہ دوبارہ آنے والی رُوح فلاں شخص کی ماں ہے اور فلاں شخص کی دادی اور فلاں شخص کی بہن اور اس طرح پر محض پرمیشر کی لاپروائی کی وجہ سے لوگ دھوکہ کھاکر حرام کاری میں پڑجاتے ہیں کیونکہ جس مرد کی کسی عورت سے شادی ہوئی اور شادی سے ایک مدّت دراز پہلے اس کی ماں اور دادی اور ہمشیرہ مرچکی ہیں تو اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ جس عورت سے شادی کی گئی ہے شاید وہ اُس کی ماں ہی ہو یا دادی ہو یا ہمشیرہ ہو اور معلوم ہوتا ہے کہ ایسی حرامکاری پھیلنے کی پرمیشر کو کچھ پروا نہیں بلکہ وہ عمداً چاہتا ہے کہ ناپاکی دُنیا میں پھیلے ورنہ کیا اس بات کی قدرت نہ تھی کہ وہ ہر ایک نوزاد بچہ کے ساتھ ایک تحریر بھیجتا جس میں ظاہر کیا گیا ہوتا کہ اس بچہ کو فلاں فلاں شخص سے فلاں فلاں رشتہ ہے یا اُس بچہ کو یہ قدرت بخشتا کہ وہ آپ ہی بتلا دیتا کہ مثلاً میں فلاں فلاں کی دادی یا ماں ہوں مگر چونکہ پرمیشر نے ایسا نہیں کیا اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ آریوں کے پرمیشر کے نزدیک ہر ایک بدعملی جائز ہے۔ اس پر ایک اور بھی دلیل ہے کہ وید صرف اِسی قسم کی حرامکاری کو جائز نہیں رکھتا بلکہ ایک اور قسم کی حرامکاری بھی وید کی رُو سے جائز قرار دی گئی ہے اور وہ عقیدہ نیوگ ہے جو آریہ صاحبوں کے نزدیک وید کے نہایت قیمتی خیالات ہیں یا یوں کہو کہ وید کے تمام گیان کی جڑھ اور سرچشمہ وہی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ وید کی تمام تعلیم کا نفس مضمون وہی ہے جس کے ذریعہ مکتی حاصل ہوتی ہے اور جس پر پوشیدہ طور پر آریہ قوم میں عمل ہو رہا ہے۔
اورخلاصہ تعلیم نیوگ یہ ہے
کہ جس آریہ کے گھر میں لڑکا پیدا نہ ہو یا صرف لڑکیاں پیدا ہوں تواس کے لئے وید کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو کسی دوسرے سے ہم بستر کراکر اولاد حاصل کرے بغیر