ورنہ اس کا سبب کیا ہے؟ کہ جس طرح قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی سے انسان جماعت اولیاء اللہ میں داخل ہوسکتا ہے۔ اُن کتابوں میں یہ خاصیت پائی نہیں جاتی اور یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں کے پیرو ان کمالات سے منکر ہیں جو انسان کو قرب کے مکان میں حاصل ہوسکتے ہیں بلکہ وہ کرامات اور خرق عادات پر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہیں مگر ہم اُن پرکوئی ہنسی ٹھٹھا نہیں کرتے ہاں اُن کی محرومی کو دیکھ کر رونا ضرور آتا ہے۔ مَیں اس جگہ کچھ گذشتہ قصوں کو بیان نہیں کرتا بلکہ میں وہی باتیں کرتا ہوں جن کا مجھے ذاتی علم ہے۔ میں نے قرآن شریف میں ایک زبردست طاقت پائی ہے۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں ایک عجیب خاصیت دیکھی ہے جو کسی مذہب میں وہ خاصیت اور طاقت نہیں اوروہ یہ کہ سچا پیرو اس کامقامات ولایت تک پہنچ جاتا ہے خدا اُس کو نہ صرف اپنے قول سے مشرّف کرتا ہے بلکہ اپنے فعل سے اُس کو دکھلاتا ہے کہ میں وہی خدا ہوں جس نے زمین و آسمان پیدا کیا تب اس کا ایمان بلندی میں دُور دُور کے ستاروں سے بھی آگے گذر جاتا ہے۔ چنانچہ میں اس امر میں صاحب مشاہدہ ہوں خدا مجھ سے ہمکلام ہوتاہے اور ایک لاکھ سے بھی زیادہ میرے ہاتھ پراُس نے نشان دکھلائے ہیں۔ سو اگرچہ مَیں دنیا کے تمام نبیوں کاادب کرتاہوں اور اُن کی کتابوں کا بھی ادب کرتا ہوں مگر زندہ دین صرف اسلام کو ہی مانتا ہوں کیونکہ اس کے ذریعہ سے میرے پر خدا ظاہر ہوا۔ جس شخص کو میرے اس بیان میں شک ہو اُس کو چاہیئے کہ ان باتوں کی تحقیق کے لئے کم سے کم دو۲ ماہ کے لئے میرے پاس آجائے میں اُس کے تمام اخراجات کا جو اس کے لئے کافی ہوسکتے ہیں اس مدت تک متکفّل رہوں گا۔ میرے نزدیک مذہب وہی ہے جو زندہ مذہب ہو۔ اور زندہ اور تازہ قدرتوں کے نظاؔ رہ سے خدا کو دکھلاوے ورنہ صرف دعویٰ صحت مذہب ہیچ اور بلا دلیل ہے۔