قرآن شریف ہمیں حکم کرتا ہے ہم اِس بات کے گواہ ہیں کہ وہ نہایت زبردست اور قادر مطلق اور کامل طاقتوں والا خدا ہے جو شخص اس خدا کی طرف سچے دل سے رجوع کرتا ہے اور وفاداری اور صدق قدم سے اُس کی طرف آتا ہے اُس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ جیسا کہ خدا بے مثل ہے وہ بھی بے مثل ہو جاتا ہے اور آسمانی برکتوں کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور جیسا کہ خدا نے آسمان اور زمین میں کئی قسم کی قدرتیں دکھلائی ہیں ایسا ہی اُس کے ہاتھ پر بھی کئی قدرتیں ظاہر ہوتی ہیں اور خوارق ظہور میں آتے ہیں جو دوسرے انسان اُن پر قادر نہیں ہوسکتے اور آسمانی برکتوں کے دروازے اُس پر کھولے جاتے ہیں اور مقابلہ کے وقت کوئی اُس پر غالب نہیں آسکتا* کیونکہ خدا اُس کی زبان ہوجاتا ہے جس سے وہ بولتا ہے اور خدا اُس کے ہاتھ ہوجاتا ہے جن سے طرح طرح کے تصرّفات زمین پر ظاہر کرسکتا ہے نہیں۔ کہہ سکتے کہ وہ خدا ہے یاخدا کا بیٹا ہے۔ مگر جو شخص قرآن شریف کا پیرو ہوکر محبت اور صدق کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے وہ ظلّی طور پر خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر ہو جاتا ہے۔ یہ سب نتیجہ اس زبردست طاقت اور خاصیّت کا ہوتا ہے جو خدا کے کلام قرآن شریف میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں وہ زبردست طاقت اور خاصیت کسی اور کتاب میں نہیں جو کسی قوم کے نزدیک کتاب الہامی سمجھی جاتی ہے شاید اس کا یہ سبب ہوکہ وہ کتابیں بوجہ دور دراز زمانوں کے محرّف و مبدّل ہوچکی ہیں یا شاید یہ سبب ہو کہ اگر چہ لفظ ان کے محرف و مبدّل نہیں ہوئے مگر معنے بگاڑ دئیے گئے ہیں یا شاید یہ سبب ہو کہ خدانے اس ؔ آخری زمانہ میں تفرقہ دُور کرنے کے لئے او ردنیا کے تمام لوگوں کو صرف ایک کتاب پر جمع کرنے کے لئے اُن تمام پہلی کتابوں کی برکتیں مسلوب کرلی ہیں
* ابھی مجھے تھوڑی سی غنودگی کے ساتھ یہ الہام ہوا۔ انت مِنّی بمنزلۃ النجم الثاقب۔ یعنی تو مجھ سے بمنزلہ اس ستارہ کے ہے جو قوت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔ اور یہ ساڑھے پانچ بجے صبح کا وقت ہے۔ روز دوشنبہ ۲ دسمبر ۱۹۰۷ ء۔ منہ