خلاصہ مضمون
*
جیساکہ ہم مفصل طور پر اس مضمون میں لکھ چکے ہیں یہ بات یقینی اور قطعی ہے کہ پوری پوری ہدایت اور کامل یقین حاصل کرنے کے لئے الہامی کتاب کی ضرورت ہے کیونکہ جس معرفت تامہ کے ذریعہ سے مرتبہ عالیہ تک اپنی نجات کے لئے ہر ایک انسان کو پہنچنا ضروری ہے وہ معرفت تامہ محض عقل کے ذریعہ سے ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور ہم اس مضمون میں مفصل بیان کرچکے ہیں کہ نجات محبت تامہ پر موقوف ہے کیونکہ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جو تمام مجازی تعلقات کو کالعدم کرکے سب کے قائم مقام خدا کو کردیتی ہے۔ انسان کسی کے لئے اپنی جان نہیں دیتا کسی کے لئے دُکھ نہیں اٹھاتا کسی کے لئے تلخ زندگی اختیار نہیں کرتا مگر جس سے محبت ہے اس کے لئے مرنا بھی اپنے لئے ایک زندگی دیکھتا ہے پس جبکہ خدا تعالیٰ سے انسان کا تعلق اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ کمال محبت کی وجہ سے اُس کی راہ میں موت کو بھی اپنی راحت سمجھتا ہے اور اُس کی طرف دل ایسا کھینچا جاتا ہے کہ ان اغراض سے اُس کو یاد نہیں کرتا کہ وہ بہشت میں اُس کو داخل کرے گا یا دوزخ سے اُس کو نجات دے گا بلکہ ایک نامعلوم کشش اُس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اوروہ خود سمجھ نہیں سکتا کہ وہ کشش کیوں ہے ؟ اور کیاچیز ہے ؟ اور اس محبت کے لئے محبوب کی معرفت اس قدر ضروری ہے کہ ؔ اس کے وہ محاسن اور وہ خوبیاں جو موجب عشق اور محبت ہوتے ہیں معلوم ہو جائیں جیسا کہ ایک عاشق جو ایک معشوق کی محبت میں گرفتار ہے وہ جوش محبت پیدا ہونے کے لئے صرف اس بات کامحتاج ہے کہ معشوق کی خوبصورتی پر اُس کو اطلاع ہوجائے اور اُس کے دلکش نقش ونگار پر اُس کی نظر پڑ جائے