جو اُن کوملتاہے جو سچے دل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں وہ کسی مجاہدہ سے نہیں ملتا محض ایمان سے ملتا ہے اور مفت ملتا ہے۔ صرف یہ شرط ہے کہ ایسا شخص ایمان میں صادق ہو اور قدم میں استوار اور امتحان کے وقت صابر ہو لیکن خدائے عزّوجل کی لدنّی ہدایت جو اس آیت میں مذکورہے۔ 3 ۱؂ وہ بجز مجاہدہ کے نہیں ملتی۔ مجاہدہ کرنے والا ابھی مثل اندھے کے ہوتا ہے اور اس میں اور بینا ہونے میں ابھی بہت فاصلہ ہوتا ہے۔ مگر رُوح القدس کی تائید اُس کو نیک ظن کردیتی ہے اور اُس کو قوت دیتی ہے جو وہ مجاہدہ کی طرف راغب ہو اور مجاہدہ کے بعد انسان کو ایک اور روح ملتی ہے جو پہلی رُوح سے بہت قوی اور زبردست ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہ دو۲ روحیں ہیں۔ رُوح القدس ایک ہی ہے صرف فرق مراتب قوت کا ہے جیسا کہ دو ۲ خدا نہیں ہیں صرف ایک خدا ہے مگر وہی خدا جن خاص تجلیات کے ساتھ اُن لوگوں کا ناصر اور مربی ہوتا اور اُن کے لئے خارق عادت عجائبات دکھاتا ہے وہ دُوسروں کو ایسے عجائبات قدرت ہرگز نہیں دکھلاتا۔ بظاہر ایک نادان سمجھے گا کہ گویا دو ۲ خدا ہیں کیونکہ جس خدا کے ساتھ اس کا معاملہ ہے وہ اُس کی نظر میں کچھ کمزور سا ہے اور جس خدا کے ساتھ ایک مقبول کا معاملہ ہے وہ بڑی بڑی طاقتیں اس کے لئے ظاہر فرماتا ہے مگر درحقیقت خدا ایک ہی ہے صرف یہ فرق ہے کہ جو شخص بڑا صدق لے کر اُس کی طرف دوڑتا ہے وہ بھی اُس کے لئے بڑے بڑے کام دکھاتا ہے یہاں تک کہ اپنے زمین و آسمان کو اُس کے لئے غلاموں کی طرح کر دیتا ہے مگر جو شخص اپنے صدق اور وفا اور استقامت اور ؔ اپنے ایمان میں کمزور ہے خدا بھی اُس کے لئے کمزور کی طرح ظاہر ہوتا ہے اور اُس کو طرح طرح کی ذلّت اور ناکامی میں چھوڑ دیتا ہے اور وہ مصیبت کے ساتھ رزق حاصل کرتا ہے اور اسباب کے شکنجوں میں پھنسا رہتا ہے۔ اب ہم اصل مضمون کی طرف رجوع کرکے پھر لکھتے ہیں کہ جس خدا پر ایمان لانے کے لئے