اُنؔ کے حق میں فرماتا ہے 3 ۱ یعنی خدا نے ایک پاک رُوح کے ساتھ اُن کی تائید کی۔ وہ وہی غیبی طاقت تھی جو ایمان لانے کے بعد اور کسی قدر صبرکرنے کے بعد انسان کو ملتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس طاقت کے حاصل ہونے کے بعد نہ صرف اس درجہ پر رہے کہ اپنے عیبوں اور گناہوں کو محسوس کرتے ہوں اور اُن کی بدبو سے بیزار ہوں بلکہ اب وہ نیکی کی طرف اس قدر قدم اٹھانے لگے کہ صلاحیت کے کمال کو نصف تک طے کرلیا اور کمزوریوں کے مقابل پر نیک اعمال کی بجاآوری میں طاقت بھی پیدا ہوگئی اور اس طرح پر درمیانی حالت اُن کو حاصل ہوگئی اور پھر وہ لوگ رُوح القدس کی طاقت سے بہرہ ور ہوکر اُن مجاہدات میں لگے کہ اپنے پاک اعمال کے ساتھ شیطان پر غالب آجائیں۔ تب انہوں نے خدا کے راضی کرنے کے لئے اُن مجاہدات کو اختیار کیا کہ جن سے بڑھ کر انسان کے لئے متصور نہیں انہوں نے خداکی راہ میں اپنی جانوں کاخس و خاشاک کی طرح بھی قدر نہ کیا آخر وہ قبول کئے گئے اورخدا نے اُن کے دلوں کو گناہ سے بکلی بیزار کردیا اور نیکی کی محبت ڈال دی جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33۲ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیاکرتے ہیں۔ غرض ایمان لانے والوں کے تین درجے ہیں۔ ظا۱لم۔ مقتصد۲۔ سابق ۳بالخیرات۔ ظالم ہونے کی حالت میں انسان اپنی بد اعمالی کی حالت کو محسوس کرلیتا ہے۔ اور مقتصد ہونے کی حالت میں نیکی کے بجالانے کی توفیق پاتا ہے مگر پورے طور پر بجا نہیں لاسکتا۔ اور سابق بالخیرات ہونے کی حالت میں جہاں تک اس کی فطرت کی طاقت ہے پورے طور پر نیکی بجا لاتا ہے اور نیک اعمال کے بجا لانے میں آگے سے آگے دوڑتا ہے۔ اور اس درجہ پر انسان کو خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور قدرت کا اس قدر علم ہوجاتا ہے کہ گویا وہ اس کو دیکھتا ہے کیوؔ نکہ خدا تعالیٰ خود اُس کو اپنے خارق عادت تصرّفات کے ساتھ راہ دکھا دیتا ہے۔ رُوح القدس کی تائید جو مومن کے شامل حال ہوتی ہے وہ محض خدا تعالیٰ کاانعام ہوتا ہے