کرتا اور نیکیوں کی طرف حرکت کرتاہے اسی کی طرف خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اشارت فرمائی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۱ یعنی ایماندار تین قسم کے ہیں (۱) اول وہ جو ظالم ہیں یعنی انواع و اقسام کے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور گناہ کا پلہ اُن کا بھاری ہوتا ہے(۲) دوسرے وہ جو میانہ رو ہیں یعنی کچھ تو گناہ کرتے ہیں اور کچھ نیک اعمال۔ اوردونوں حالتوں میں مساوی ہوتے ہیں (۳) اور تیسرے درجہ کے وہ لوگ ہیں جو عمدہ اخلاق اور عمدہ اعمال میں سبقت لے جاتے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ جو صدر اسلام کا وقت تھا اس زمانہ پر ایک وسیع نظر ڈال کر ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم نے کیونکر ایمان لانے والوں کو مذکورہ بالا ادنیٰ درجہ سے اعلیٰ درجہ تک پہنچا دیا کیونکہ ایمان لانے والے اپنی ابتدائی حالت میں اکثر ایسے تھے کہ جس حالت کو وہ ساتھ لے کر آئے تھے وہ حالت جنگلی وحشیوں سے بدتر تھی اور درندوں کی طرح اُن کی زندگی تھی اور اس قدر بد اعمال اور بد اخلاق میں وہ مبتلا تھے کہ انسانیت سے باہر ہوچکے تھے اور ایسے بے شعور ہوچکے تھے کہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہم بداعمال ہیں یعنی نیکی اور بدی کی شناخت کی حس بھی جاتی رہی تھی۔ پس قرآنی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے جو پہلا اثر اُن پر کیا تووہ یہ تھا کہ اُن کو محسوس ہوگیا کہ ہم پاکیزگی کے جامہ سے بالکل برہنہ اور بداعمالی کے گند میں گرفتار ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ اُن کی پہلی حالت کی نسبت فرماتا ہے۔
3۲
یعنی یہ لوگ چار پایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی بدتر۔ پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک صحبت اور فرقان حمید کی دلکش تاثیر سے اُن کو محسوس ہوگیاکہ جس حالت میں ہم نے زندگی بسر کی ہے وہ ایک وحشیانہ زندگی ہے اور سراسر بد اعمالیوں سے ملوّث ہے تو انہوں نے رُوح القدس سے قوت پاکر نیک اعمال کی طرف حرکت کی جیسا کہ اللہ تعالیٰ