جو قرآن شریف نے ہم پر ظاہر کی اگر چاہو تو قبول کرو۔
لیکن اگر اس جگہ کوئی یہ سوال پیش کرے کہ اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ انسان کی فطرت کچھ ایسی ہی واقع ہوئی ہے جس چیز کو درحقیقت وہ اپنے لئے موذی جانتا ہے وہ اس کے نزدیک نہیں جاتا اور اُس سے دورؔ بھاگتا ہے مگرانسان کے لئے یہ مرتبہ کیونکر حاصل ہوکہ خدا پر اور اُس کی سزا پر اس کو اس قدر یقین حاصل ہو جائے کہ وہ خدا کی نافرمانی اور ہر ایک گناہ کے ارتکاب سے ایساہی ڈرے جیسا کہ وہ سانپ یا اور کسی موذی چیز سے ڈرتا ہے؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمارا اور اُن راستبازوں کاجو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں یہ چشم دید واقعہ او رذاتی تجربہ ہے کہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی پیروی میں جو اخلاص اور صدق قدم سے ہو یہ خاصیّت ہے کہ آہستہ آہستہ خدائے واحد لاشریک کی محبت دل میں بیٹھتی جاتی ہے اور کلام الٰہی کی رُوحانی طاقت انسانی رُوح کو ایک نور بخشتی ہے جس سے اُس کی آنکھ کھلتی ہے اور انجام کار عالم ثانی کے عجائبات اس کو دکھائی دیتے ہیں۔ پس اُس دن سے اُس کو علم الیقین کے طور پر پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے اور پھر وہ یقین ترقی کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ علم الیقین سے عین الیقین تک پہنچتا ہے اور پھر عین الیقین سے حق الیقین تک پہنچ جاتا ہے۔ جو شخص قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہے پہلے اس کو کوئی تزکیہ نفس حاصل نہیں ہوتا اور کئی قسم کے گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے پھر خدا کی رحمت اس کی دستگیری کرتی ہے اور خارق عادت طریقوں سے اُس کے ایمان کو قوت دی جاتی ہے اور جیسا کہ قرآن شریف میں وعدہ ہے کہ 3 ۱ یعنی ایمانداروں کو خدا کی طرف سے بشارتیں ملتی رہتی ہیں۔ ایسا ہی وہ بھی اپنی ذات کے متعلق کئی قسم کی بشارتیں پاتارہتا ہے اور جیسے جیسے بذریعہ اُن بشارتوں کے اُس کا ایمان قوی ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے وہ گناہ سے پرہیز