چیز سے پرہیز کرتا ہے بلکہ اگر اس کو وہ چیز مفت بھی دی جائے تب بھی اس کو دُور پھینک دیتا ہے۔ اب جب کہ انسانی فطرت میں یہ خاصیت ہر جگہ اور ہر موقع پر پائی جاتی ہے تو طبعاً یہ سوال پیدا ہو تا ہے کہ انسان خدا کے گناہ سے کیوں پرہیز نہیں کرتا اور کیوں اس موذی چیز سے دُور نہیں بھاگتا جیسا کہ دوسری موذی چیزوں سے بھاگتا ہے؟ اس سوال کا صاف جواب یہ ہے کہ انسان گناہ کے ضرر پر ایسا یقین نہیں رکھتا جیسا کہ سانپ وغیرہ کے ضرر پر اُس کو یقین ہے۔ اب جب یہ امر تشخیصہوچکا تو صاف طور پر معلوم ہوگیا کہ انسان کو گناہ سے بچنے کے لئے کسی کفارہ وغیرہ کی ضرورت نہیں بلکہ یہ ضرورت ہے کہ اُس کو خدا کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہو جائے اور اس بات کا یقین ہو جائے کہ خدا کا گناہ زہر قاتل ہے تب وہ خود بخود گناہ سے ایسا ہی پرہیز کرے گا جیسا کہ وہ سانپ وغیرہ سے پرہیز کرتا ہے۔ اے دوستو ! گناہ سے بے خوف ہونے کی یہی وجہ ہے کہ غافل انسان کو نہ خدا پر یقینی ایما ن ہے نہ اُس کی سزا پر۔ ورنہ انسان اپنی ذات میں بزدل ہے۔ اگر ایک گھر میں کسی چھت کے نیچے چند آدمی بیٹھے ہوں اور یکدفعہ سخت زلزلہ آوے تو وہ سب کے سب باہر کی طرف دوڑتے ہیں۔ اسی کا یہی سبب ہوتاہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر چند منٹ اور چھت کے نیچے بیٹھے رہے تو موت کا شکار ہو جائیں گے۔ مگر چونکہ گناہ کرنے والوں کو خدا پر یقین نہیں نہ اس کی سزا پر یقین ہے اس لئے وہ لوگ دلیری سے گناہ کرتے ہیں۔ جو لوگ جھوٹے اور بناوٹی ذریعے نجات کے لئے ڈھونڈھتے ہیں وہ اور بھی گناہ پر دلیر ہو جاتے ہیں کیونکہ جھوٹا ذریعہ کوئی یقین نہیں بخشتا۔ مگر جس شخص کو یہ علم یقینی حاصل ہوجاتا ہے کہ درحقیقت خدا ہے اور درحقیقت گناہ گاربے سزا نہیں رہے گا بشرطیکہ یقینی علم ہو نہ محض رسمی۔ وہ بلاشبہ اپنے تئیں گناہ کی راہوں سے بچائے گا۔ سچی فلاسفی نجات کی یہی ہے