اورؔ پھر قدامت کادعویٰ کریں اور بغیر ایسے فیصلہ کے جو ناطق ہو تمہیں کیا معلوم ہے کہ قدامت کے دعویٰ میں تم سچے ہو یا پارسی سچے ہیں۔ علاوہ اس کے خدا کا کلام صرف ابتدائے زمانہ کے لئے نہیں ہوتا بلکہ وہ توحاجت کے وقت پر انسانی نسل کے درست کرنے کے لئے آتا ہے پس یہ عذر بدتر از گناہ ہے اور ہرگز قبول کرنے کے لائق نہیں بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اور تو اور ان رشیوں کا ایمان بھی خدا کے وجود پر محض شکی اور ظنی درجہ پرہوگا جن پر خدا کی ہستی اور اس کی صفات کے بارے میں کوئی یقینی حقیقت نہیں کھولی گئی اور محض قصے ان کے آگے رکھ دئیے گئے کہ پرمیشر عالم الغیب ہے اور پرمیشر سرب شکتی مان ہے اور پرمیشر دیالو ہے۔ ایک دانشمند جو سچی معرفت کا پیاسا ہے سمجھ سکتا ہے کہ بھلا ان قصوں سے کیا بن سکتا ہے؟ پھر مضمون خواں صاحب نے یہ سنا کہ’’ وہ پرمیشر سب پر حاکم انادی پرجا کو اپنی سناتن وِدّیا سے گیان دینے والا ہے‘‘ مگر اس کی وجہ کوئی پیش نہیں کی کہ کیوں سب پرحاکم ہے کیا کسی جابرانہ قبضہ سے یہ حکومت اُس کو میسر آئی ہے یا فتحیاب بادشاہ کی طرح روحوں کی فوج پر اُس نے فتح پاکر اپنا مطیع اور منقاد اُن کو بنا لیا ہے کیونکہ وہ حکومت تو اُس کو میسر نہیں جو پیدا کنندہ کو اپنی پیدا کردہ چیزوں پر ہوتی ہے کوئی اور وجہ حکومت ہوگی اور جب تک اُس کی حکومت کی کوئی وجہ بیان نہ کی جائے تب تک یہ دعویٰ کہ پرمیشر اپنی پرجا یا رعیت پر حاکم ہے فضول اور بے معنی ہے۔ باقی رہا یہ کہ پرمیشر اپنی سناتن ودّیا سے گیان دینے والا ہے اگرگیان سے یہی مراد ہے کہ وہ کسی رُوح یا رُوح کی کسی قوت کا پیدا کرنے والا نہیں اور سب روحیں خودبخود ہیں اور ایسا ہی ہر ایک ذرہ اجسام کا اور اُن کی قوتیں خود بخود ہیں اور پرمیشر کو نہ کبھی طاقت ہوئی اور نہ ہوگی کہ وہ ایک رُوح یا ایک ذرہ پیدا کرسکے تو خدا نہ کرے کہ ایسا گیان کسی ایمان دار کو نصیب ہو بلکہ ایسی باتیں تو وہ کرے گا جو لوگوں کو دہریہ بنانے کے لئے کوشش کرتا ہے اور اگر یہ خیال کیا جائے کہ پرمیشر نے وید میں نیک عملوں کی ہدایت