کرتا ہے کہ ایسی فطرت جو بباعث اپنی نہایت صفائی کے آفتاب حقیقی کی روشنی قبول کرتی ہے وہ بھی کئی قسم پر ہے بعض فطرتوں کادائرہ تنگ ہوتا ہے وہ روشنی تو قبول کرتے ہیں مگر اپنے دائرہ کے قدر کے موافق۔ مثلاً چھوٹا سا شیشہ جو آرسی کا شیشہ کہلاتا ہے اگرچہ اُس میں بھی کوئی صورت منعکس ہوسکتی ہے بلکہ تمام نقوش اصل صورت کے اُس میں منعکس ہو جاتے ہیں مگر وہ نقوش بہت ہی چھوٹے ہوکر اس میں نمودار ہوتے ہیں اور بڑے شیشہ میں پورے پورے نقوش صورت کے منعکس ہوسکتے ہیں۔ ایسا ہی ایک صافی شیشہ جس قدر روشنی کو آفتاب کے مقابل ہونے کی حالت میں اپنے اندر لیتا ہے دوسرا شیشہ کہ کسی قدر کثافت اپنے اندر رکھتا ہے اس قدر روشنی حاصل نہیں کرسکتا۔ پھر اس جگہ ایک اور امر بیان کرنے کے لائق ہے کہ وہ حقیقت جس کانام ہم لوگ شفاعت رکھتے ہیں دراصل اُس کی فلاسفی بھی یہی ہے کیونکہ قاعدہ ہے کہ جب ایک تاریکی ایک روشن جوہر کے مقابل پر آتی ہے تو وہ تاریکی روشنی کے ساتھ بدل جاتی ہے۔ پس اسی طرح جب ایک مصفّا فطرت جو نہایت صافی آئینہ کی طرح ہو جاتی ہے آفتابِ حقیقی کے مقابل پر آکر اُس سے روشنی حاصل کر لیتی ہے تو کبھی ایسا اتفاق ہو جاتا ہے کہ ایک تاریک فطرت اُس روشن فطرت کے مقابل پر آجاتی ہے تو بوجہ اُس محاذات کے اُس پر بھی روشنی کا عکس پڑ جاتا ہے تب وہ فطرت بھی روشن ہوجاتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب ایک آئینہ صافی پر آفتاب کی شعاع پڑتی ہے تووہ آئینہ اپنے مقابل کے درودیوار کو اُس روشنی سے منور کر دیتا ہےؔ یہی شفاعت کی حقیقت ہے۔ شفع عربی زبان میں جفت کو کہتے ہیں کہ جو طاق کے مقابل پر ہے۔ پس جو شخص ایک پاک فطرت اور کامل انسان سے ایسا تعلق حاصل کرتا ہے کہ گویا اُس کی جزو ہے تو قانون قدرت اسی طرح واقع ہے کہ وہ اُس کے انوار میں سے حصہ لیتا ہے۔ غرض نجات کی فلاسفی یہی ہے کہ خدا سے پاک اور کامل تعلق پیدا کرنے والے اس لازوال نور کا مظہر ہو جاتے ہیں