اور اپنے عزیز دوستوں سے محبت رکھتے ہیں اوروہ محبتؔ اُن کے دلوں میں دھنس جاتی ہے کہ اُن کے مرنے کے ساتھ ایسے بے قرار ہو جاتے ہیں کہ گویا آپ ہی مر جاتے ہیں یہی محبت بلکہ اس سے بہت بڑھ کر اپنے خدا سے پیدا ہوجائے یہاں تک کہ اس محبت کے غلبہ میں دیوانہ کی طرح ہو جائے اورکامل محبت کی سخت تحریک سے ہر ایک دُکھ اور ہر ایک زخم اپنے لئے گوارا کرے تا کسی طرح خدا تعالیٰ راضی ہو جائے۔ جب انسان پر اس مرتبہ تک محبت الٰہی غلبہ کرتی ہے تب تمام نفسانی آلائشیں اس آتشِ محبت سے خس و خا شاک کی طرح جل جاتی ہیں اور انسان کی فطرت میں ایک انقلاب عظیم پیدا ہو جاتا ہے اور اُس کو وہ دل عطا ہوتا ہے جو پہلے نہیں تھا اوروہ آنکھیں عطا ہوتی ہیں جو پہلے نہیں تھیں اور اس قدر یقین اس پر غالب آجاتا ہے کہ اسی دُنیا میں وہ خدا کو دیکھنے لگتا ہے اور وہ جلن او ر سوزش جو دنیا داروں کی فطرت کو دنیا کے لئے جہنم کی طرح لگی ہوئی ہوتی ہے وہ سب دور ہوکر ایک آرام اور راحت اور لذّت کی زندگی اس کو مل جاتی ہے تب اس کیفیت کا نام جو اُس کو ملتی ہے نجات رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کی رُوح خدا کے آستانہ پر نہایت محبت اور عاشقانہ تپش کے ساتھ گرکر لازوال آرام پالیتی ہے اور اس کی محبت کے ساتھ خدا کی محبت تعلق پکڑکر اُس کو اس مقامِ محوّیت پر پہنچا دیتی ہے کہ جو بیان کرنے سے بلند اور برتر ہے۔ انسان کی ایک ایسی فطرت ہے کہ وہ خدا کی محبت اپنے اندر مخفی رکھتی ہے۔ پس جب وہ محبت تزکیہء نفس سے بہت صاف ہو جاتی ہے اور مجاہدات کا صَیقل اُس کی کدورت کو دُور کر دیتا ہے تو وہ محبت خد ا کے نُور کا پرتوہ حاصل کرنے کے لئے ایک مصفّا آئینہ کاحکم رکھتی ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ جب مصفّا آئینہ آفتاب کے سامنے رکھا جائے تو آفتاب کی روشنی اُس میں بھر جاتی ہے اس صورت میں نظر کی غلطی سے ایسا ؔ معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہی آفتاب ہے مگر دراصل وہ آفتاب نہیں ہے بلکہ بباعث نہایت صفائی کے آفتاب کی روشنی اُس نے حاصل کی ہے۔ پھر ایک اور بات ہے جو خدا کاکلام ہم پر ظاہر