اور اُس کی محبت کی آگ میں پڑکر ایسے اپنی ہستی سے دُور ہو جاتے ہیں کہ جیسا کہ لوہا آگ میں پڑکر آگ کی صورت ہی اختیار کرلیتا ہے مگر درحقیقت وہ آگ نہیں ہے لوہا ہے اور جیسا کہ خدا کی تجلیات سے اُس کے عاشقوں میں ایک حیرت نما تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسا ہی خدا بھی اُن کے لئے ایک تبدیلی پیدا کرتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ خدا غیر متبدل اور ہر ایک تبدیلی سے پاک ہے مگر ان کے لئے وہ ایسے عجائب کام دکھلاتا ہے کہ گویا وہ ایک نیا خدا ہے وہ خدا نہیں ہے جو عام لوگوں کا خدا ہے کیونکہ جس قدر خدا کے راستباز بندے اپنے پاک اعمال او رصدق اور وفا کے ساتھ اُس کی طرف حرکت کرتے ہیں یہاں تک کہ اپنی پہلی ہستی سے مر جاتے ہیں خدا بھی اُن کی طرف اکرام اور نصرت کے ساتھ حرکت کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی نصرت اور حمایت اور غیرت کو اُن کے لئے ایسے طور سے دکھاتا ہے کہ وہ معمولی طور پر نہیں بلکہ وہ نصرت خارق عادت طور پر ظاہر ہوتی ہے۔
یہ بالکل غیر ممکن اورخدا کی کریمانہ عادت کے برخلاف ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے بندہ کو جہنم میں ڈالے کہ جو اپنے سارے دل اور ساری جان اور کامل اخلاص سے اُس کی محبت میں محو ہے او ر ایسا محو ہے کہ جیسا کہ سچی محبت کا تقاضا ہونا چاہئے کسی کو اُس کے برابر نہیں جانتا بلکہ ہر ایک کو اُس کے مقابلہ پر کالعدم سمجھتا ہے اور اپنے وجود کو اُس کی راہ میں فنا کرنے کو طیار ہے پھر ایسا شخص کیونکر مورد عذاب ہوسکتا ہے۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کامل محبت ہی نجات ہے بھلا تم سچ کہو کہ کیا تم اپنے ایک بچے کو جس سے تم بہت ہی محبت رکھتے ہو دانستہ آگ میں ڈال سکتے ہو ؟ پھر خدا جو سراسر محبت ہے اُن لوگوں کو جو اُس سے پیار کرتے ہیں اور ذرّہ ذرّہ اُن کا اُس کی محبت میں مستغرق ہے کیونکر آگ میں ڈالے گا۔ پس کوئی قربانی اس سے بہتر قربانی نہیں ہے کہ انسان اُس محبوب حقیقی سے اس قدر محبت کرے کہ خود وہ اس بات کو محسوس کرے کہ درحقیقت اُس کے سوا کوئی اُس کا محبوب اور پیارا نہیں او رنہ صرف اس قدر بلکہ اس کے لئے خود اپنے نفس کی محبت بھی