نوروں کا اور جان ہے تمام جانوں کی اور قیّوم ہے ہر ایک چیزکا۔ سب چیزوں سے نزدیک ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ وہ عین اشیاء ہے۔ اور سب سے بلند تر ہے مگر نہیں کہہ سکتے کہ اس میں اور ہم میں کوئی اور چیز بھی حائل ہے۔ اُس کی ذات دقیق در دقیق اور نہاں در نہاں ہے مگر پھر بھی سبؔ چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے۔ سچی لذت اور سچی راحت اُسی میں ہے اور یہی نجات کی حقیقی فلاسفی ہے۔
اسی نجات کے بارہ میں قرآن شریف نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ نجات ایک ایسا امر ہے جو اسی دُنیا میں ظاہر ہو جاتا ہے جیسا کہ اُس نے فرمایا 3 33 ۱ یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا ہی ہوگا یعنی خدا کے دیکھنے کے حواس اور نجات ابدی کا سامان اسی دُنیا سے انسان ساتھ لے جاتا ہے اور بار بار اُس نے ظاہر فرمایا ہے کہ جس ذریعہ سے انسان نجات پاسکتا ہے وہ ذریعہ بھی جیسا کہ خدا قدیم ہے قدیم سے چلا آتا ہے یہ نہیں کہ ایک مدت کے بعد اُس کو یاد آیا کہ اگر کسی طرح بنی آدم نجات نہیں پاسکتے تو میں خود ہی ہلاک ہوکر اُن کو نجات دوں۔ انسان کو حقیقی طور پر اس وقت نجات یافتہ کہہ سکتے ہیں کہ جب اس کے تمام نفسانی جذبات جل
جائیں اور اُس کی رضا خدا کی رضا ہو جائے اور وہ خدا کی محبت میں ایسا محو ہو جائے کہ اس کا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہوجائے اور تمام قول او رفعل اور حرکات اور سکنات اور ارادات اُس کے خدا کے لئے ہو جائیں اور وہ دل میں محسوس کرے کہ اب تمام لذّات اُس کی خدا میں ہیں اور خدا سے ایک لمحہ علیحدہ ہونا اُس کے لئے موت ہے۔ اور ایک نشہ اور سکر محبت الٰہی کا ایسے طور سے اُس میں پیدا ہو جائے کہ جس قدر چیزیں اُس کے ماسوا ہیں سب اُس کی نظر میں معدوم نظر آویں اور اگر تمام دنیا تلوار پکڑ کر اُس پر حملہ کرے اور اُس کو ڈرا کر حق سے علیحدہ کرنا چاہے تو وہ ایک مستحکم پہاڑ کی طرح اسی استقامت پر قائم رہے اور کامل محبت کی ایک آگ اُس میں بھڑک اٹھے اور گناہ سے نفرت پیدا ہو جائے اور جس طور سے اور لوگ اپنے بچوں اور اپنی بیویوں