جو لوگ ہیں ضرور اُن کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ جبکہ پرمیشر کسی اپنے قصوروار کے گناہ نہیں بخشتا تو ہم کیونکر وہ کام کرسکتے ہیں جو پرمیشر کے اخلاق کے برخلاف ہے اور اگر رعایا ایسے راجوں اور بادشاہوں کے ماتحت ہو جو پرمیشر کی طرح اپنے قصور واروں کی نسبت معافی کا نام نہیں لیتے تو اس بدقسمت رعیت کا کیا حال ہوگا اور پھر تناسخ ثابت کہاں ہے جس طرح ہم کسی شخص کی جان نکلتی دیکھتے ہیں کب ہمارے مشاہدہ میں یہ بات آتی ہے کہ وہی جان دوبارہ کسی اور جسم میں پڑگئی ہے اور اس طرح پر یہ سزا بھی بیکاؔ ر ہے کیونکہ اگر دوبارہ آنے والی رُوح اس بات سے متنبہ نہیں اور اُس کو علم نہیں دیا گیا کہ وہ فلاں گناہ کی پاداش میں کسی ناکارہ جون میں ڈالی گئی تو پھر وہ کیونکر اس گناہ سے دستکش
رہے گی۔ یاد رہے کہ انسان کی فطرت میں اور بہت سی خوبیوں کے ساتھ یہ عیب بھی ہے کہ اس سے بوجہ اپنی کمزوری کے گناہ اور قصور صادر ہو جاتا ہے اور وہ قادر مطلق جس نے انسانی فطرت کو بنایا ہے اُس نے اس غرض سے گناہ کا مادّہ اس میں نہیں رکھا کہ تا ہمیشہ کے عذاب میں اُس کو ڈال دے بلکہ اس لئے رکھا ہے کہ جو گناہ بخشنے کا خلق اُس میں موجود ہے اُس کے ظاہر کرنے کے لئے ایک موقع نکالا جائے۔ گناہ بے شک ایک زہر ہے مگر توبہ اور استغفار کی آگ اُس کو تریاق بنا دیتی ہے۔ پس یہی گناہ توبہ اور پشیمانی کے بعد ترقیات کاموجب ہو جاتا ہے ا ور اس جڑھ کو انسان کے اندر سے کھو دیتا ہے کہ وہ کچھ چیز ہے او رعُجب اور تکبر اورخود نمائی کی عادتوں کا استیصال کرتا ہے۔
اے دوستو ! یاد رکھو! ! کہ صرف اپنے اعمال سے کوئی نجات نہیں پاسکتا محض فضل سے نجات ملتی ہے اور وہ خدا جس پر ہم ایمان لاتے ہیں وہ نہایت رحیم و کریم خدا ہے۔ وہ قادر مطلق اور سرب شکتی مان ہے جس میں کسی طرح کی کمزوری اور نقص نہیں۔ وہ مبدۂے تمام ظہورات کا اور سرچشمہ ہے تمام فیضوں کا اور خالق ہے تمام مخلوقات کا اور مالک ہے تمام جو دو فضل کا اور جامع ہے تمام اخلاق حمیدہ او راوصاف کاملہ کا اور منبع ہے تمام