سے صادر ہوتے ہیں اور غیر مردوں کو ملتی ہے تو اِن تمام صورتوں میں خاوند کی رائے پر حصر رکھا گیا ہے کہ اگر وہ مناسب دیکھے تو چھوڑ دے۔ مگر پھر بھی تاکید ہے اور نہایت سخت تاکید ہے کہ طلاق دینے میں جلدی نہ کرے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم انسانی حاجات کے مطابق ہے اور اُن کے ترک کرنے سے کبھی نہ کبھی کوئی خرابی ضرور پیش آئے گی۔اسی وجہ سے بعض یورپ کی گورنمنٹوں کوجواز طلاق کا قانون پاس کرنا پڑا۔
اب باقی رہا وہ مسئلہ جو انجیل میں نجات کے بارہ میں بیان کیا گیا ہے یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کامصلوب ہونااورکفّارہ۔ اِس تعلیم کو قرآن شریف نے قبول نہیں کیا اور اگرچہ حضرت عیسیٰ ؑ کو قرآن شریف ایک برگزیدہ نبی مانتا ہے اور خدا کا پیارؔ ا اور مقرب اور وجیہ قرار دیتا ہے لیکن اس کو محض انسان بیان فرماتا ہے اور نجات کے لئے اس امر کو ضروری نہیں جانتا کہ ایک گناہ گار کا بوجھ کسی بے گناہ پر ڈال دیا جائے۔ او رعقل بھی تسلیم نہیں کرتی کہ گناہ تو زید کرے اور بکر پکڑا جائے۔ اس مسئلہ پر تو انسانی گورنمنٹوں نے بھی عمل نہیں کیا۔ افسوس کہ نجات کے بارہ میں جیسا کہ عیسائی صاحبوں نے غلطی کی ہے ایسا ہی آریہ صاحبوں نے بھی اس غلطی سے حصہ لیا ہے اور اصل حقیقت کو بھول گئے ہیں کیونکہ آریہ صاحبان کے عقیدہ کی رُو سے تو بہ اور استغفار کچھ بھی چیز نہیں اور جب تک انسان ایک گناہ کے عوض وہ تمام جونیں نہ بھگت لے جو اس گناہ کی سزا مقررہ ہے تب تک نجات غیر ممکن ہے اور پھر بھی محدود۔ اور پرمیشر اس بات پر قادر ہی نہیں کہ گناہ بخش دے اور سچی توبہ جو درحقیقت ایک رُوحانی موت ہے اور ایک آگ ہے جس میں انسان پرمیشر کو خوش کرنے کے لئے جلنا قبول کرتا ہے وہ کچھ چیز ہی نہیں اس سے نعوذ باللہ پرمیشر کی تنگ ظرفی ثابت ہوتی ہے اور جبکہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت دیتا ہے کہ تم اپنے قصورواروں کو بخشو اور اپنے نافرمانوں کو معافی دو ا ور آپ اس بات کا پابند نہیں ہے تو گویا وہ اپنے بندوں کو وہ خلق سکھلانا چاہتا ہے جو خود اُس میں موجود نہیں اس صورت میں ایسے مذہب کے پابند