پہنچ جائیں۔ اور قرآن شریف کی اعلیٰ درجہ کی خوبیوں میں سے اس کی تعلیم بھی ہے کیونکہ وہ انسانی فطرت اورانسانی مصالح کے سراسر مطابق ہے۔ مثلاً توریت کی یہ تعلیم ہے کہ دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ اور انجیل یہ کہتی ہے کہ بدی کاہرگز مقابلہ نہ کر۔ بلکہ اگر کوئی تیری دائیں گال پر طمانچہ مارے تو دوسری بھی پھیر دے مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ3 ۱؂ یعنی بدی کا بدلہ تو اُسی قدر بدی ہے لیکن جو شخص اپنے قصور وار کا گناہ بخشے اور اس گناہ کے بخشنے میں وہ شخص جس نے گناہ کیا ہے اصلاح پذیر ہوسکے اورآئندہ اپنی بدی سے بازآسکے تو معاف کرنا بدلہ لینے سے بہتر ہوگا ورنہ سزا دینا بہتر ہوگا کیونکہ طبائع مختلف ہیں۔ بعض ایسی ہی ہیں کہ گناہ معاف کرنے سے پھر اس گناہ کانام نہیں لیتے اور باز آجاؔ تے ہیں ہاں بعض ایسے بھی ہیں کہ قید سے بھی رہائی پاکر پھر وہی گناہ کرتے ہیں سو چونکہ انسانوں کی طبیعتیں مختلف ہیں اس لئے یہی تعلیم ان کے مناسب حال ہے جو قرآن شریف نے پیش کی ہے اور انجیل اور توریت کی تعلیم ہر گز کامل نہیں ہے بلکہ وہ تعلیم انسانی درخت کی شاخوں میں سے صرف ایک شاخ سے تعلق رکھتی ہے اوروہ دونوں تعلیمیں اُس قانون کے مشابہ ہیں جو مختص القوم یامختص المقام ہو۔ مگر قرآنی تعلیم تمام طبائع انسانیہ کا لحاظ رکھتی ہے۔ انجیل کا حکم ہے کہ تو غیر عورت کو شہوت کی نظر سے مت دیکھ۔ مگر قرآن شریف کہتا ہے کہ توہرگز نہ دیکھ نہ شہوت کی نظرسے نہ بے شہوت کہ یہ کبھی نہ کبھی تیرے لئے ٹھوکر کا باعث ہوگا بلکہ ضرورت کے وقت خوابیدہ چشم سے (نہ نظر پھاڑکر) رفع ضرورت کرنا چاہیئے۔ اور انجیل کہتی ہے کہ اپنی بیوی کو بجز زنا کے ہرگز طلاق نہ دے۔ مگر قرآن شریف اس بات کی مصلحت دیکھتاہے کہ طلاق صرف زنا سے مخصوص نہیں بلکہ اگرمرد اورعورت میں باہم دشمنی پیدا ہوجاوے اور موافقت نہ رہے یا مثلاً اندیشہء جان ہو یا اگرچہ عورت زانیہ نہیں مگر زنا کے مقدمات اُس