قواعدِ ہیئت کے مطابق نہیں یہ عذرات بالکل فضول ہیں۔ معجزات ہمیشہ خارق عادت ہی ہوا کرتے ہیں ورنہ وہ معجزے کیوں کہلائیں اگر وہ صرف ایک معمولی بات ہو۔ اور علاوہ اس کے علم ہیئت کی کس نے اب تک حد بست کرلی ہے۔ ہمیشہ نئے نئے عجائبات آسمانی ظاہر ہوتے ہیں کہ جن کے بھید کچھ بھی سمجھ نہیں آتے اور ایسے خارق عادت طور پر ظاہرہوتے ہیں کہ عقل اُن میں حیران رہ جاتی ہے۔ تھوڑے دن ہوئے ہیں کہ خدا نے میرے پر ظاہر کیا تھا کہ انگریزی مہینہ کی اخیر تاریخ میں ایک نشان آسمانی ظاہرہوگا اور میں نے فی الفور اخباروں میں یہ پیشگوئی شائع کردی تھی۔ چنانچہ جب اکتیسو۳۱یں تاریخ مہینہ کی ہوئی تو ایک روشن ستارہ آسمان سے گرتا ہوا ہزاروں لوگوں کو دکھائی دیااو ر ہر ایک نے یہی سمجھا کہ اسی کے گاؤں میں گرا ہے اس کے ساتھ ایک گرج اور تند آواز بھی تھی بعض جگہ بعض لوگ اس کی روشنی اور آواز سے غش کھاکر گر گئے۔ اور ہمیں خبر پہنچی ہے کہ سات سو کوس تک اس ہیبت نا ک ستارہ کا گرنا دیکھا گیا۔ بلکہ ؔ تِبّت تک کی ہمیں خبر آئی ہے کہ اُن لوگوں نے بھی اس روشن اور تُند آواز ستارہ کو گرتے دیکھا جس کے ساتھ ہیبت ناک آواز تھی۔ اب کوئی ہیئت دان بتلا وے کہ یہ کیا ماجرا تھا۔
غرض قرآن شریف بڑے بڑے نشانوں سے پُر ہے جن کے ذکر کرنے کے لئے یہ مضمون کافی نہیں۔ اور ایک عجیب طریق قرآن شریف کا یہ ہے جو کسی اور کتاب میں نہیں دیکھا گیا اور وہ یہ کہ وہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور علم اور رحمت اور بخشش وغیرہ صفات کے بیان کرنے میں عاجز انسان کی طرح ان صفات کو محض معمولی طور پر بیان نہیں کرتا بلکہ خود زندہ اور تازہ ثبوت اس بات کا دیتا ہے کہ خدا عالم ہے خدا قادر ہے خدا رحیم ہے خدا نجات دہندہ ہے یعنی معجزہ اور پیشگوئی کے طور پر تازہ نمونہ ان صفات کامشاہدہ کر ا دیتا ہے تا انسان کو یقین آجائے کہ جو کچھ دنیا میں اس کی صفات مشہور ہیں وہ درحقیقت اُس میں پائی جاتی ہیں اور تا پڑھنے والے اس کے خدا تعالیٰ کی صفات کی نسبت حق الیقین تک