یہ تو ہم نے قرآن شریف کی اُس زبردست طاقت کا بیان کیا ہے جو اپنے پیروی کرنے والوں پر اثر ڈالتی ہے لیکن وہ دوسرے معجزات سے بھی بھرا ہوا ہے۔ اُس نے اسلام کی ترقی اور شوکت اور فتح کی اُ س وقت خبر دی تھی جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکّہ کے جنگلوں میں اکیلے پھرا کرتے تھے اور اُن کے ساتھ بجز چند غریب اور ضعیف مسلمانوں کے اور کوئی نہ تھا اور جب قیصر روم ایرانیوں کی لڑائی سے مغلوب ہوگیا اور ایران کے کسریٰ نے اُس کے مُلک کا ایک بڑا حصہ دبا لیا تب بھی قرآن شریف نے بطور پیشگوئی کے یہ خبر دی کہ نو۹ برس کے اندر پھر قیصر روم فتحیاب ہو جائے گا اور ایران کو شکست د ے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ ایسا ہی شقّ القمرکا عالی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے۔ قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور کفار نے اِس معجزہ کو دیکھا۔ اُس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ3 3۔3۱؂ یعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اورکافروں نے یہ معجزہ دیکھا اورکہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نِرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتاہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکّہ کے مخالف لوگ اورجانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افترا خیال کرکے پھر بھی چپ رہتے۔ بالخصوص جبکہ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تواس حالت میں اُن کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تواس کا رد کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا اور اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ یہ