نشانوں اور خوارق میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تومیں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور توفیق سے سب پر غالب رہوں گا اور یہ غلبہ اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ میری رُوح میں کچھ زیادہ طاقت ہے بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ خدا نے چاہا ہے کہ اُس کے کلام قرآن شریف کی زبردست طاقت اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رُوحانی قوت اور اعلیٰ مرتبت کا میں ثبوت دو ں اور اُس نے محض اپنے فضل سے نہ میر ے کسی ہنر سے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اُس کے عظیم الشان نبی اور اس کے قوی الطاقت کلام کی پیروی کرتا ہوں اور اس سے محبت رکھتا ہوں اوروہ خداکاکلام جس کانام قرآن شریف ہے جو ربّانی طاقتو ں کا مظہر ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور قرآن شریف کا یہ وعدہ ہے کہ 3 ۱ اور یہ وعدہ ہے کہ3۲ اور یہ وعدہ ہے کہ3۳ اس وعدہ کے موافق خدا نے یہ سب مجھے عنایت کیا ہے اور ترجمہ اِن آیات کایہ ہے کہ جو لوگ قرآن شریف پر ایمان لائیں گے اُن کو مبشر خوابیں او رالہام دیئے جائیں گے یعنی بکثرت دیئے جائیں گے ورنہ شاذ و نادر کے طور پر کسی ؔ دوسرے کو بھی کوئی سچی خواب آسکتی ہے مگر ایک قطرہ کو ایک دریا کے ساتھ کچھ نسبت نہیں اور ایک پیسہ کو ایک خزانہ سے
کچھ مشابہت نہیں اور پھر فرمایا کہ کامل پیروی کرنے والے کی رُوح القدس سے تائید کی جائے گی یعنی ان کے فہم اور عقل کو غیب سے ایک روشنی ملے گی اور اُن کی کشفی حالت نہایت صفاکی جائے گی اور اُن کے کلام اور کام میں تاثیر رکھی جائے گی اور اُن کے ایمان نہایت مضبوط کئے جائیں گے اور پھر فرمایا کہ خدا اُن میں اور اُن کے غیر میں ایک فرق بیّن رکھ دے گا یعنی بمقابل اُن کے باریک معارف کے جو اُن کو دیئے جائیں گے اور بمقابل ان کی کرامات اورخوارق کے جو اُن کو عطا ہوں گی دوسری تمام قومیں عاجز رہیں گی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قدیم سے خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوتا چلا آتا ہے اور اس زمانہ میں ہم خود اس کے شاہد رویت ہیں۔