میرے پاس آیا اور بات کرتا کرتا رو پڑا اور دعا کی خواہش کی۔ مجھ کو اُس کی حالت پر رحم آیا اور میں نے اُس کے لئے دُعا کی۔ تب خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھ کو ان الفاظ کے ساتھ الہام ہوا کہ قُلْنَا یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سلامًا۔ یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ ٹھنڈی اور سلامتی ہوجا۔ تب ایک ہفتہ بھی نہیں گذرا تھاکہ لالہ ملاوا مل اس خوفناک مرض سے نجات پاگیا۔ یہ تمام واقعہ بھی میں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں شائع کردیا۔ اس کے شائع کرنے پر بھی پچیس۲۵ برس گذر گئے مگر لالہ ملاوا مل نے کبھی اس واقعہ کی تکذیب شائع نہیں کی۔ آخر ایمان اور دھرم بھی تو ایک چیز ہے اور سچ بولنا سچے مذہب کا اصول ہوتا ہے اس لئے یقین ہے کہ اگر اس کو بھی قسم سے پوچھا جائے تو اُس کو اس بات سے چارہ نہ ہوگا کہ سچ بیان کرے مگر بہتر ہوگا کہ ایسے مجمع میں یہ فیصلہ ہوجس میں مجھے بھی بلایا جائے اور ان دونوں صاحبوں کو میرے رُوبرو قسمیں دی جائیں کیونکہ بغیر قسم کے قوم کے لحاظ سے وہ جھوٹ بول سکتے ہیں مگر قسم بھی اولاد کی ہو۔
ایساہی ا ور بھی کئی آریہ صاحبوں کی نسبت میری الہامی پیشگوئیاں ہیں اوروہ پا۵نچ پیشگوئیاں ہیں جو ظہور میں آگئیں مگر میں اس مجمع میں مناسب نہیں دیکھتا کہ اُن کا ذکر کروں اور ذکر کی کچھ حاجت بھی نہیں کیونکہ وہ پیشگوئیاں میری کتابوں میں شاؔ ئع ہوچکی ہیں۔ اب ہم اس سے بڑھ کر اپنے نشانوں کاآریہ صاحبوں کو کیا ثبوت دیں کہ خود آریہ صاحبوں کو بطور گواہ کے پیش کرتے ہیں اور یہ معجزات میرے نہیں بلکہ قرآن شریف کے ہیں کیونکہ ہم اُسی کی طاقت اور اسی کی عطا کردہ رُوح سے یہ کام کر رہے ہیں۔
غرض قرآن شریف کی زبردست طاقتوں میں سے ایک یہ طاقت ہے کہ اُس کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق دیئے جاتے ہیں اور وہ اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ دنیا اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ چنانچہ میں یہی دعویٰ رکھتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا کے تمام مخالف کیا مشرق کے اور کیا مغرب کے ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور